وائٹ ہاؤس
بریفنگ روم
بیانات و اجراء
24 مئی، 2022

آج ہم، آسٹریلیا کے وزیراعظم اینٹنی البانیز، انڈیا کے وزیراعظم نریندرا مودی، جاپان کے وزیراعظم فومیو کیشیڈا اور امریکہ کے صدر جو بائیڈن ایک ایسے آزاد اور کھلے ہند۔الکاہل کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم کی تجدید کے لیے جمع ہوئے جس میں سبھی کو مساوی مواقع ملیں اور جو مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔

ایک سال سے کچھ ہی عرصہ پہلے ان رہنماؤں نے پہلی مرتبہ ملاقات کی تھی۔ آج ٹوکیو میں ہم نے اپنا چوتھا اجلاس منعقد کیا جو ہمارا دوسرا بالمشافہ اجلاس تھا اور اس کا مقصد دنیا میں حالیہ عمیق مسائل کے ہوتے ہوئے کواڈ کو اچھائی کی قوت ثابت کرنا تھا جو خطے کو ٹھوس فوائد پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ اپنے باہمی تعاون کے پہلے سال میں ہم نے کواڈ کو ایک مثبت اور عملی ایجنڈے کے لیے وقف کیا، دوسرے سال میں ہم اس وعدے کو عملی جامہ پہنانے اور خطے کو 21ویں صدی کے مسائل کا بہتر طور سے مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔

اس وقت جبکہ کووڈ۔19 وباء بدستور دنیا بھر میں انسانی و معاشی تکالیف کا باعث بن رہی ہے، ممالک میں یکطرفہ اقدامات کے رحجانات اور یوکرین میں المناک جنگ چھڑی ہوئی ہے تو ایسے میں ہم اپنے مقاصد کی جانب ثابت قدمی سے مصروف عمل ہیں۔ ہم آزادی، قانون، جمہوری اقدار، خودمختاری و علاقائی سالمیت کے اصولوں، خطرات پیدا کرنے یا طاقت کے استعمال سے رجوع کیے بغیر تنازعات کے پرامن تصفیے، حالات کو تبدیل کرنے کے لیے کسی یکطرفہ کوشش اور جہاز رانی اور فضائی سفر کی آزادی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں  ہند۔الکاہل اور دنیا کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے لازمی اہمیت رکھتی ہیں۔ ہم خطے میں اور اس سے پرے ان اصولوں کو فروغ دینے کے لیے باہم مل کر فیصلن کن اقدامات جاری رکھیں گے۔ ہم قوانین کی بنیاد پر بنائے گئے عالمی نظام کو قائم رکھنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ ان قوانین کے تحت دنیا کے ممالک ہر طرح کے عسکری، معاشی اور سیاسی جبر سے آزاد ہوتے ہیں۔

امن و استحکام

ہم نے یوکرین میں جنگ اور اس کے نتیجے میں جاری انسانی بحران پر اپنے مشترکہ ردعمل پر تبادلہء خیال کیا اور ہند۔الکاہل کے لیے اس کے اثرات کا اندازہ لگایا۔ کواڈ کے رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔ ہم نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون عالمی نظام کی بنیاد ہے جس  میں اقوام متحدہ کا چارٹر اور تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بھی شامل ہے۔ ہم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام ممالک کو بین الاقوامی قانون کی مطابقت سے تنازعات کا پُرامن حل تلاش کرنا چاہیے۔

کواڈ خطے میں شراکت داروں کے ساتھ تعاون کا عزم رکھتا ہے جو آزاد اور کھلے ہند۔الکاہل کے حوالے سے مشترکہ تصور کے حامل ہیں۔ ہم آسیان کے اتحاد اور مرکزیت اور ہند۔الکاہل پر آسیان کے نقطہء نظر کے عملی اطلاق کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت کی توثیق کرتے ہیں۔ ہم ہند۔الکاہل میں یورپی یونین کی تعاون کی حکمت عملی کے بارے میں اس کے مشترکہ اعلامیے کا خیرمقدم کرتے ہیں جو ستمبر 2021 میں جاری کیا گیا تھا اور ہند۔الکاہل کے ممالک کے ساتھ یورپ کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم بین الاقوامی قانون خصوصاً سمندر کے قانون پر اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی ایل او ایس) اور جہاز رانی و فضائی سفر کی آزادی برقرار رکھے جانے کی حمایت کریں گے تاکہ مشرقی اور جنوبی بحیرہ چین سمیت ہر جگہ جہاز رانی سے متعلق قوانین کی بنیاد پر بنائے گئے نظام کو لاحق مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ ہم خطے میں حالات کی تبدیلی اور اور تناؤ میں اضافے کے مقصد سے اٹھائے جانے والے کسی بھی طرح کے جابرانہ، حفاظتی یا یکطرفہ اقدامات کی کڑی مخالفت کرتے ہیں۔ متنازع جگہوں پر عسکری سرگرمیاں، ساحلی محافظوں کے بحری جہازوں اور سمندری ملیشیا کا خطرناک استعمال اور دوسرے ممالک کی اپنے ساحلی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کے اقدامات اس کی نمایاں مثال ہیں۔

انفرادی اور اجتماعی طور پر ہم الکاہل کے جزائر پر مشتمل ممالک کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید بڑھائیں گے تاکہ ان کی معاشی بہبود میں اضافہ ہو، صحت کے نظام اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹںے کی صلاحیت بہتر بنائی جا سکے، ان کی سمندری سلامتی کو بہتر کیا جائے اور ماہی گیری کو برقرار رکھا جا سکے، انہیں پائیدار بنیادی ڈھانچہ مہیا کیا جائے، ان کے لیے تعلیمی مواقع بڑھائے جائیں اور ان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مطابقت ڈھلنے اور ان سے محفوظ رہنے میں مدد دی جائے جو اس خطے کے لیے خاص طور سے سنگین خطرہ ہیں۔ ہم الکاہل میں جزائر پر مشتمل ممالک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باہم مل کر کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ہم نے الکاہل کے جزائر کے فورم کے اتحاد اور الکاہل میں علاقائی سلامتی کے ڈھانچوں کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

اپنے اور اپنے شراکت داروں کے مابین ہم کثیرملکی اداروں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط کریں گے جن میں اقوام متحدہ بھی شامل ہے جہاں ہم کثیرملکی نظام کی اصلاح اور اس کی مضبوطی میں اضافے کے لیے اپنی مشترکہ ترجیحات کو مضبوط بنائیں گے۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر ہم اس دور کے مسائل کے خلاف اقدامات کریں گے اور اس سلسلے میں یہ یقینی بنائیں گے کہ یہ خطہ سب کے لیے برابر مواقع مہیا کرے، سب کے لیے کھلا ہو اور اس میں عالمگیر قوانین اور اصولوں کی حکمرانی ہو۔

ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں (یو این ایس سی آر) کی مطابقت سے جزیرہ نما کوریا کو جوہری اسلحے سے پوری طرح پاک کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور جاپان کے اغوا ہونے والے شہریوں کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت کی بھی توثیق کرتے ہیں۔ ہم شمالی کوریا کی جانب سے میزائلوں کی تیاری اور انہیں داغنے کے تخریبی اقدام کی بھی مذمت کرتے ہیں جن میں بہت سے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کے تجربات بھی شامل ہیں جو کہ یو این ایس سی آر کی خلاف ورزی ہیں۔ ہم عالمی برادری سے کہتے ہیں کہ وہ ان قراردادوں پر پوری طرح عملدرآمد کرائے۔ ہم شمالی کوریا پر زور دیتے ہیں کہ وہ یواین ایس سی آر کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، اشتعال انگیزی سے باز رہے اور جامع مذاکرات کا حصہ بنے۔

ہمیں میانمار میں جاری بحران پر گہری تشویش ہے جس نے سنگین انسانی مصائب کو جنم دیا ہے اور جس سے علاقائی استحکام کو مسائل لاحق ہیں۔ ہم میانمار میں تشدد کے فوری خاتمے اور غیرملکیوں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، تعمیری بات چیت میں شمولیت، تشدد سے متاثرہ علاقوں اور ضرورت مندوں تک امداد کی رسائی اور جمہوریت کی فوری بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم میانمار کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے آسیان کے زیرقیادت کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اور اس سلسلے میں آسیان کے خصوصی ایلچی کے کردار کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم آسیان ممالک کے پانچ نکاتی اتفاق رائے پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔

ہم ہر طرح اور ہر شکل کی دہشت گردی اور متشدد انتہاپسندی کی واضح طور پر مذمت کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی بنیاد پر دہشت گردی کے اقدامات کا کوئی جواز نہیں۔ ہم دہشت گردوں کے آلہء کاروں کی مذمت کرتے ہیں اور دہشت گرد گروہوں کو کسی بھی ایسی انتطامی، مالیاتی یا عسکری مدد فراہم نہ کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں جسے سرحد پار دہشت گردی سمیت دہشت گرد حملے کرنے یا ان کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہو۔ ہم دہشت گرد حملوں بشمول 11/26 کے ممبئی اور پٹھانکوٹ حملوں کی ایک مرتبہ پھر مذمت کرتے ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کی قرارداد 2593 (2021) کی توثیق نو بھی کرتے ہیں جو یہ مطالبہ کرتی ہے کہ افغان سرزمین کبھی کسی ملک کے لیے خطرہ پیدا کرنے یا اس پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے یا اسے دہشت گردوں کی پناہ گاہ یا تربیت کار کے طور پر یا دہشت گردی کی منصوبہ بندی یا اس کی مالی مدد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ہم انسداد منی لانڈرنگ کے لیے بین الاقوامی معیارات قائم رکھنے اور ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کی مطابقت سے تمام ممالک کی جانب سے دہشت گردی کی مالی مدد روکنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ ہم توثیق کرتے ہیں کہ عالمگیر دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں ہم تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف مربوط کارروائی کریں گے جن میں ایسے افراد اور ادارے بھی شامل ہیں جنہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 (1999) کی مطابقت سے پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

کووڈ۔19 اور عالمگیر تحفظ صحت

دو سال سے زیادہ عرصہ سے دنیا کووڈ۔19 کے تباہ کن اثرات کی گرفت میں ہے جو ہمارے معاشروں، شہریوں، طبی کارکنوں اور نظام اور معیشتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ کواڈ کے ممالک نے تحفظ صحت کی بہتر طور سے بحالی اور طبی نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے کووڈ۔19 کے خلاف اقدامات کی قیادت کی اور کر رہے ہیں۔ ہم وائرس پر حاوی رہنے کے لیے اجتماعی طریقے اپنانے کا عزم کرتے ہیں جس میں ہماری توجہ وائرس کی نئی اقسام کا مقابلہ کرنے کی تیاری، ویکسین کے حصول، ٹیسٹ، علاج معالجے اور وائرس کے مقابل انتہائی غیرمحفوظ لوگوں کے لیے دیگر طبی سازوسامان کی دستیابی ممکن بنانے پر مرکوز ہو گی۔

اب تک کواڈ اور اس کے شراکت داروں نے کوویکس اے ایم سی کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 5.2 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے جو کہ دنیا بھر میں سرکاری عطیہ دہندگان کی جانب سے دیے جانے والے مجموعی حصے کا تقریباً 40 فیصد ہے۔ ہمیں دنیا بھر کے ممالک کو کووڈ۔19 ویکسین کی 670 ملین خوراکیں دینے پر فخر ہے جس میں ہند۔الکاہل کے ممالک کو دی جانے والی کم از کم 265 خوراکیں بھی شامل ہیں۔ دنیا بھر میں کووڈ۔19 ویکسین کی ترسیل کے سلسلوں میں نمایاں وسعت کو دیکھتے ہوئے ہم جہاں اور جب ضرورت ہو محفوظ، موثر، سستی اور معیاری ویکسین مہیا کرتے رہیں گے۔

ہم کواڈ ویکسین شراکت کے تحت انڈیا میں حیاتیاتی ای مرکز میں جانسن اینڈ جانسن ویکسین کی پیداوار کو وسعت دینے پر ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ویکسین کی تیاری کی پائیدار صلاحیت سے کووڈ۔19 کے خلاف جنگ اور آئندہ وباؤں سے نمٹنے کے معاملے میں طویل مدتی فائدہ ہو گا۔ اس سلسلے میں ہم انڈیا میں متذکرہ بالا ویکسین کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او کی ای یو ایل منظوری کے منتظر ہیں۔ ہمیں کواڈ کی جانب سے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کو ڈبلیو ایچ او کی مںظور شدہ اور انڈیا میں بنائی گئی ویکسین کے عطیے اور کواڈ کے ارکان کی جانب سے دیگر متعلقہ مدد کی فراہمی کی خوشی ہے۔ یہ ہمارے تعاون کی ٹھوس کامیابیوں کی ایک مثال ہے۔

ہم کووڈ۔19 کے خلاف اقدامات اور مستقبل میں صحت کو لاحق خطرات کے مقابلے کی تیاری جاری رکھیں گے۔ ہم لوگوں کو ویکسین لگانے کے لیے نچلی ترین سطح پر مدد کی فراہمی جاری رکھیں گے جس کے لیے ہمارے چاروں ممالک کی جانب سے دنیا بھر کے 115 سے زیادہ ملکوں میں 2 بلین سے زیادہ امریکی ڈالر مہیا کیے گئے اور ہم اس ہفتے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں کواڈ کے زیراہتمام پروگرام کے ذریعے ویکسین لگوانے میں ہچکچاہٹ کے رحجان سے بھی نمٹیں گے۔ ہم ‘کووڈ۔19 سے نمٹنے کے لیے بہتر روابط کے لیے عالمی اقدامات کے ترجیحی منصوبے’ (جی اے پی)، ویکسین کی ترسیل کے لیے کوویکس شراکت اور دیگر اقدامات کے ذریعے اپنی کوششوں کو مربوط کریں گے۔ ہم امریکہ کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والی دوسری عالمی کووڈ۔19 کانفرنس کی کامیابی کا خیرمقدم کرتے ہیں جس میں اس وباء سے نمٹنے کے لیے مالیات اور پالیسی کی مد میں 3.2 بلین ڈالر دینے کے وعدے کیے گئے ہم خطہء ہند۔الکاہل میں معاشی اور سماجی بہتری کے لیے اپنے تعاون کو مضبوط کریں گے۔

طویل مدتی طور پر ہم دنیا بھر میں صحت کے نظام اور وباؤں کی روک تھام کی صورتحال کو بہتر بنائیں گے، بہتر تحفظِ صحت کے لیے تیاری اور اقدامات (پی پی آر) کو تقویت دیں گے۔ اس سلسلے میں مالیاتی، طبی اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری تعاون کو مضبوط کیا جائے گا جس میں کلینیکل ٹرائل اور جینوم کی نگرانی جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔ کواڈ کے موجودہ اشتراک کو ترقی دیتے ہوئے ہم نئے سامنے آنے والے ممکنہ وبائی جرثوموں کی بروقت نشاندہی اور ان کی نگرانی کی صلاحیت کو بہتر بنائیں گے اور وباؤں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت میں اضافے کے لیے کام کریں گے۔ وبائی بیماریوں کی روک تھام اور ان پر قابو پانے کے لیے نئی ویکسین کی تیاری کی غرض سے کواڈ شراکت داروں نے سی ای پی آئی کے کام کے آئندہ مرحلے کے لیے مجموعی طور پر 524 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے جو اس سلسلے میں دنیا بھر میں سرکاری سطح پر مہیا کیے جانے والے مالی وسائل کا تقریباً نصف ہے۔

یو ای سی کے دوستوں کے گروہ کے ارکان کی حیثیت سے ہم صحت کے عالمگیر نظام کو مزید مضبوط بنانے اور اس میں اصلاح لانے کے لیے عالمگیر قائدانہ کردار ادا کرنے کاعزم رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد 2023 میں یو ایچ سی پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے انعقاد تک پی آر پی کو بہتر بنانا اور یو ایچ سی کو فروغ دینا ہے۔

بنیادی ڈھانچہ

ہم نے خطہء ہند۔الکاہل میں افادے اور خوشحالی کے لیے لازمی اہمیت کے حامل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے  تعاون بڑھانے کی غرض سے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ہم قرضوں سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی مشترکہ عزم کے حامل ہیں جنہیں بہت سے ممالک میں وباء نے گمبھیر بنا دیا ہے۔

کواڈ کے شراکت داراس خطے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی رفتار تیز کرنے کے لیے اپنا کئی دہائیوں پر مشتمل تجربہ اور صلاحیتیں لائے ہیں۔ ہم اس حوالے سے خلا پُر کرنے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری لانے کے لیے اپنے شراکت داروں اور پورے خطے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ کواڈ اس مقصد کے حصول کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں مدد دینے کے لیے آئندہ پانچ برس میں خطہء ہند۔الکاہل میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور اس سلسلے میں سرمایہ کاری کے لیے 50 بلین سے زیادہ امریکی ڈالر مہیا کرنے کی کوششش کرے گا۔

ہم ضرورت مند ممالک کو ان کے قرضوں کے حوالے سے مسائل پر قابو پانے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دینے کے لیے جی7 مشترکہ فریم ورک اور پائیدار قرضوں کے فروغ اور شفافیت کے ذریعے معاونت کریں گے۔ اس سلسلے میں متعلقہ ممالک کے مالیاتی حکام کے ساتھ قریبی رابطوں سے کام لیا جائے گا جس میں ‘کواڈ کا قرضوں کے انتظام سے متعلق وسائل کا ذریعہ’ بھی شامل ہے جو اہلیت میں اضافے میں مدد دینے والی کئی طرح کی دوطرفہ اور کثیرطرفی امداد پر مشتمل ہے۔

ہم چاروں کواڈ ممالک کے رہنماؤں کی کانفرنس کے موقع پر ترقیاتی کاموں کے لیے مالی مدد دینے والے اداروں کے اجلاس کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں ماہرین، اپنے خطے اور اور ایک دوسرے سے بھی قریبی رابطے میں رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں تاکہ اپنے ذرائع اور مہارتوں کو ہند۔الکاہل کے مابین بہتر ربط قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

ہم باہمی تعاون کو مزید مضبوط کریں گے اور نشاندہی کردہ شعبہ جات میں لازمی ضرورت کے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان شعبوں میں علاقائی اور ڈیجیٹل ربط، ماحول دوست توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی اہلیت بشمول توانائی سے متعلقہ مراکز میں حادثات پر قبو پانے کی صلاحیت شامل ہیں جس سے ہند۔الکاہل کے بارے میں آسیان کے نقطہء نظر سمیت علاقائی ترجیحات کا اظہار ہوتا ہے جن کا مقصد خطے میں پائیدار اور جامع ترقی کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔

موسمیات

جیسا کہ آئی پی سی سی کی تازہ ترین رپورٹوں میں زور دیا گیا ہے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی فوری ضرورت کا احساس کرتے ہوئے ہم پیرس معاہدے پر ثابت قدمی سے عملدرآمد کریں گے اور سی او پی 26 میں ہونے والے فیصلوں کے مطابق عمل کریں گے۔ ہم اس سلسلے میں عالمگیر عزم میں اضافے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں گے جن میں خطہء ہند۔الکاہل میں اس مسئلے کے اہم فریقین تک رسائی اور خطے میں شراکت داروں کی جانب سے مومسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات میں تعاون اور انہیں مضبوط اور بہتر بنانے جیسے کام بھی شامل ہیں جن کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی غرض سے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں سے مالی وسائل جمع کیے جائیں گے اور تحقیق، ترقی اور اختراعی ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے کام کیا جائے گا۔

آج ہم نے ‘موسمیاتی تبدیلی کے مطابق خود کو ڈھالنے اور اس کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے کواڈ کا پیکیج (کیو۔چیمپ) شروع کیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو ‘محدود کرنا’  اور خود کو ان کے مطابق ‘ڈھالنا’ اس کے دو بنیادی موضوعات ہیں۔ کیو۔چیمپ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کواڈ کے ہر ملک کے کردار پر مشترکہ ماحول دوست راہداری کے ڈھانچے کی تعمیر کے لیے ماحول دوست جہاز رانی اور بندرگاہوں کے قیام، ماحول دوست ہائیڈروجن اور قدرتی گیس کے شعبے سے میتھین کے اخراج کے مسئلے پر ماحول دوست تعاون، ماحول دوست توانائی کی ترسیل کے سلسلوں کو مضبوط بنانے، سڈنی توانائی فورم کے کردار کا خیرمقدم کرنے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے الکاہل کے جزائر پر مشتمل ممالک کے ساتھ تعلق بنانے کے لیے موسمیاتی اطلاعات کی خدمات فراہم کرنے کے اہتمام اور آفات کے خلاف مزاحمتی ڈھانچے کے لیے اتحاد ( سی ڈی آر ائی) کے ذریعے کوششوں جیسے آفاتی اور موسمیاتی مزاحمتی ڈھانچے سمیت آفات اور حادثات سے ہونے والے نقصان کو محدود رکھنے کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کواڈ کے ورکنگ گروپ کے تحت اس وقت جاری سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس میں ایندھن کے لیے استعمال ہونے والے ماحول دوست ایمونیا، سی سی یو ایس/کاربن کی ری سائیکلنگ، پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت کاربن کی اعلیٰ طور سے مربوط منڈیوں کی ترقی کے لیے تعاون اور صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دینا، موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحم زراعت، موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ٹھوس اقدامات کے بارے میں معلومات کا تبادلہ اور ماحولی نظام کی بنیاد پر موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی پیدا کرنے پر توجہ دی جانا ہے۔ کیو۔چیمپ کو ٹھوس نتائج کا حامل بنانے کے لیے ہم اپنے پروگراموں کو وسعت دینے کا عزم رکھتے ہیں جن کا ہدف چاروں ممالک کے مابین اور ہند۔الکاہل میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کرنا ہے۔ ہمیں الکاہل کے جزائر پر مشتمل ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے لاحق مسائل کا احساس ہے۔ ہم آسٹریلیا کی نئی حکومت کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف موثر اقدامات کے وعدے کا خیرمقدم کرتے ہیں جس میں 2050 تک نیٹ زیرو ہدف کے حصول کے لیے قانون سازی اور ایک نئی اور پرعزم قومی متعین شراکت بھی شامل ہیں۔

سائبر سکیورٹی

تیزی سے ڈیجیٹل صورت اختیار کرتی دنیا میں نت نئے خطرات کے ہوتے ہوئے ہمیں سائبر سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے اجتماعی طریقہ کار سے کام لینے کی فوری ضرورت کا احساس ہے۔ آزاد اور کھلے ہند۔الکاہل سے متعلق کواڈ کے رہنماؤں کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہم اپنے ممالک کے اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت کو بہتر بنانے کا عزم کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سائبر خطرات سے متعلق معلومات کے باہم تبادلے، ڈیجیٹل اشیا اور خدمات کی ترسیل کے سلسلوں کو لاحق ممکنہ خطرات کی نشاندہی اور ان کے تجزیے، سرکاری سطح پر اشیا کی خریداری کے لیے سافٹ ویئر کے تحفظ سے متعلق بنیادی معیارات کو ہم آہنگ کرنے اور تمام صارفین کے فائدے کے لیے سافٹ ویئر کی ترقی کے وسیع تر نظام کو بہتر بنانے کے لیے اپنی خریداری کی مجموعی طاقت سے کام لینے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ کواڈ کے شراکت دار کواڈ سائبر سکیورٹی شراکت کے تحت ہند۔الکاہل میں صلاحیتوں میں اضافے کے پروگراموں کے لیے باہم رابطے میں رہیں گے اور چاروں ممالک، ہندالکاہل اور اس سے پرے انٹرنیٹ کے انفرادی صارفین کو سائبر خطرات سے تحفظ دینے کے لیے کواڈ کے زیراہتمام پہلا سائبر سکیورٹی دن منانا شروع کریں گے۔

اہم اور ابھرتی ہوئی نئی ٹیکنالوجی

کواڈ کی توجہ خطے میں خوشحالی اور سلامتی کو فروغ دینے کے لیے اہم اور ابھرتی ہوئی نئی ٹیکنالوجی پر مرکوز ہے۔ 5جی اور اس سے پرے مواصلاتی فراہمی میں تنوع سے متعلق پراگ تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے ہم 5جی کے فراہم کنندگان کو متنوع بنانے اور کھلے آر اے این کے بارے میں باہمی تعاون کی یادداشت پر دستخط کے ذریعے باہم تعامل اور سلامتی کو فروغ دیں گے۔ ہم کھلے آر اے این ٹریک 1.5 پروگراموں کے ذریعے اور خطے میں کھلی اور محفوظ مواصلاتی ٹیکنالوجی کے سلسلے میں باہمی تعاون کے طریقوں کا کھوج لگا کر صنعتی شعبے کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کریں گے۔

ہم نے سیمی کنڈکٹر کی ترسیل کے عالمگیر نظام میں کواڈ کی صلاحیت اور کمزوریوں کا تجزیہ اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم سیمی کنڈکٹر کی متنوع اور مسابقتی منڈی کے لیے اپنی بنیادی صلاحیتوں سے مزید بہتر طور سے کام لیں گے۔ اس کانفرنس میں اہم ٹیکنالوجی کی ترسیل کے نظام اصولوں کا مشترکہ اعلان سیمی کنڈکٹر اور دیگر طرز کی اہم ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہمارے تعاون کو فروغ دیتا ہے اور خطے کو لاحق کئی طرح کے خطرات کے خلاف ہماری مزاحمتی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے تعاون کی بنیاد مہیا کرتا ہے۔ عالمی مواصلاتی یونین میں مواصلات سے متعلق معیارات وضع کرنے کے شعبے جیسے بین الاقوامی اداروں میں ہمارے تعاون میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ہمیں معیارات سے متعلق عالمگیر تعاون کے نئے نیٹ ورک (آئی ایس سی این) کے ذریعے اس میں مزید اضافے کی توقع ہے۔

یہ ادارہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ خطے میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی ترقی ہماری مشترکہ جمہوری اقدار کی رہنمائی میں ہو۔ ہم ٹریک 1.5 پر خاکہ سازی اور بات چیت اور کوانٹم ٹیکنالوجی پر مستقبل کے کام کے حوالے سے اپنی کوششوں کے ذریعے بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں گفت و شنید کو وسعت دیتے ہوئے نئی ٹیکنالوجی کے جائزے سے متعلق اپنے تعاون میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

ہم اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے لیے سرمایے کو وسعت دینے کی غرض سے صنعتی شراکت داروں کے ساتھ ربط قائم کرنے کے لیے کاروبار اور سرمایہ کاری سے متعلق ایک فورم کا انعقاد کریں گے۔

کواڈ فیلو شپ

ہمیں اندازہ ہے کہ ممالک کے مابین عوامی سطح پر تعلقات کواڈ کی بنیاد ہیں اور ہم کواڈ فیلوشپ کی باقاعدہ شروعات کا خیرمقدم کرتے ہیں جس کے لیے اب درخواستیں دی جا سکتی ہیں۔ کواڈ فیلو شپ ہر سال ہمارے ممالک سے 100 طلبہ کو امریکہ لائے گی جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں گریجوایٹ ڈگریوں کے حصول کے لیے تعلیم پائیں گے۔ اس فیلوشپ کو شمٹ فیوچرز کے زیرانتظام چلایا جا رہا ہے۔ کواڈ فیلوز کی پہلی کلاس 2023 کی تیسری سہ ماہی میں شروع ہو گی اور ہم ان شعبہ جات میں آئندہ نسل کے باصلاحیت افراد کو جمع کرنے کے منتظر ہیں جو ہمارے ممالک کو جدید ترین تحقیق اور اختراع کی جانب لے جائیں گے۔

خلا

خلا سے متعلق ایپلی کیشنز اور ٹیکنالوجی بھی موسمیاتی تبدیلی، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ان کے خلاف اقدامات اور سمندروں اور آبی وسائل کے پائیدار انداز میں استعمال جیسے مشترکہ امور میں پیش رفت کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ کواڈ کا ہر شراکت دار زمین کے مشاہدے پر مبنی سیٹلائٹ ڈیٹا اور ایپلی کیشنز تک عام رسائی کو بہتر بنائے گا۔ ہم زمین کے مشاہدے کی بنیاد پر نگرانی اور پائیدار ترقی کا نظام قائم کرنے کے لیے باہم مل کر کام کریں گے۔ ہم خلائی بنیاد پر غیرفوجی زمینی مشاہدے سے حاصل ہونے والی معلومات کا تبادلہ کریں گے جس کے ساتھ ایک ”کوڈ سیٹلائٹ ڈیٹا پورٹل” مہیا کیا جائے گا جس کا ہمارے ہر ملک میں سیٹلائٹ ڈیٹا سے متعلق قومی ذرائع سے رابطہ ہو گا۔ ہم زمینی مشاہدے سمیت بہت سے کاموں کے لیے خلائی ایپلی کیشنز تیار کرنے کے لیے باہم مل کر کام کریں گے اور خطے کے ممالک کو صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مدد مہیا کریں گے جس میں انتہائی سرد موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے خلائی صلاحیتوں کے استعمال میں شراکت داری کا قیام بھی شامل ہے۔ ہم خلا کے پائیدار انداز میں استعمال کے لیے قوانین، ضوابط، رہنمائی اور اصولوں پر بھی مشاورت کریں گے اور خطے کے ممالک کو بیرونی خلا کے پرامن استعمال سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی (سی او پی یو او ایس) کی بیرونی خلا سے متعلق سرگرمیوں میں طویل مدتی استحکام سے متعلق رہنما ہدایات کی مطابقت سے مشترکہ ورکشاپوں کے ذریعے ممالک کے ساتھ تعاون کو وسعت دینا شامل ہےدیں گے۔

سمندری عملداری سے متعلق آگاہی اور ایچ اے ڈی آر

ہم سمندری عملداری سے متعلق آگاہی کے لیے ایک نیا اقدام شروع کر رہے ہیں جسے ‘سمندری عملدآری سے متعلق آگاہی کے لیے ہند۔الکاہل کی شراکت’ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد انسانی اور قدرتی حادثات کی صورت میں امدادی سرگرمیوں کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا اور غیرقانونی ماہی گیری کو روکنا ہے۔ آئی پی ایم ڈی اے ہند۔ الکاہل کے ممالک اور بحر ہند، جنوب مشرقی ایشیا اور الکاہل کے جزائر میں علاقائی اطلاعاتی مراکز کی مدد کرے گا اور ان کی مشاورت سے کام کرے گا۔ اس سلسلے میں ہمارے سمنروں میں استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے سمندری عملداری سے متعلق بہتر اور مشترکہ آگاہی میں مدد دینے کی غرض سے ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کی جائے گی۔ آئی پی ایم ڈی اے کا مقصد کواڈ کے بنیادی مقاصد سے ہم آہنگ ہے اور وہ یہ کہ ہم ایسے ٹھوس نتائج کے حصول کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں میں تیزی لائیں گے جن سے اس خطے کو مزید مستحکم اور خوشحال بنانے میں مدد مل سکے۔

3 مارچ 2022 کو ورچوئل اجلاس کے بعد اپنے وعدوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے آج ہم ”انسانی امداد اور آفات میں مدد کے لیے ہند۔الکاہل میں کواڈ کی شراکت” (ایچ اے ڈی آر) قائم کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ یہ شراکت اس خطے میں آفات کے خلاف موثر اقدامات کے لیے ہمارے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائے گی۔

اختتام

آج آزاد اور کھلے ہند۔الکاہل سے متعلق اپنے مشترکہ تصور کے ساتھ ہم ایک مرتبہ پھر اپنی بنیادی اقدار اور اصولوں کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں اور خطے کو ٹھوس فوائد پہنچانے کے لیے انتھک کام کرنے کا عزم کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم کواڈ کی سرگرمیوں بشمول اس کے رہنماؤں اور وزرائے خارجہ کی متواتر ملاقاتوں کو باضابطہ صورت دیں گے۔ ہم نے اپنی آئندہ بالمشافہ کانفرنس 2023 میں منعقد کرانے پر اتفاق کیا ہے جس کا میزبان آسٹریلیا ہو گا۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/statements-releases/2022/05/24/quad-joint-leaders-statement/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future