وائٹ ہاؤس
واشنگٹن، ڈی سی
24 مئی، 2022

کینٹی
ٹوکیو، جاپان
10:35 صبح، جاپان کا معیاری وقت

(صدر نے جاپان کے وزیراعظم فومیو کیشیڈا، انڈیا کے وزیراعظم نریندرا مودی اور آسٹریلیا کے وزیراعظم اینٹنی البانیز کے ساتھ مشترکہ موجودگی میں اظہار خیال کیا۔)

صدر بائیڈن: آپ کا بہت شکریہ۔ دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کے وقت اپنے دوستوں کے ساتھ اکٹھے ہونا بہت شاندار موقع ہے اور ہم تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں۔

وزیراعظم کیشیڈا، میں گزشتہ چند مہینوں میں آپ کی جانب سے قیادت کے غیرمعمولی مظاہرے پر اور ہم سب کی فیاضانہ انداز میں میزبانی کرنے پر آپ کی تعریف کرنا چاہتا ہوں۔

وزیراعظم مودی، آپ کے ساتھ دوبارہ بالمشافہ ملاقات بہت شاندار موقع ہے۔ میں یہ یقینی بنانے کے لیے آپ کے مستقل عزم پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جمہوریتیں لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت اسی کا نام ہے۔ جمہوریتیں بمقابلہ آمریتیں۔ ہمیں لوگوں کو یقینی طور پر فائدہ پہنچانا ہے۔

وزیراعظم البانیز، میں آپ کی کواڈ کے پہلے اجلاس میں شرکت کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ جیسا کہ میں نے کہا، آپ نے حلف اٹھایا اور جہاز پر سوار ہو گئے۔ اگر یہاں آپ سو جاتے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ (قہقہہ۔) کیونکہ میں نہیں جانتا کہ آپ یہ کیسے کر رہے ہیں۔ لیکن ۔۔ (قہقہہ) – یہ واقعتاً غیرمعمولی بات ہے۔ آپ بس انتخابی مہم سے نکلتے ہی یہاں آ گئے ہیں۔

میں آپ کے انتخاب پر آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ جیسا کہ آپ کی جیت پر میں ںے کہا، ہم عہدہ سنبھالتے ہی یہاں آنے کے لیے آپ کے وعدے کو بھرپور طور سے سراہتے ہیں۔

کواڈ کے رہنما ایک ہی سال قبل پہلی مرتبہ بالمشافہ طور سے ملے تھے۔ یہ طویل عرصہ دکھائی دیتا ہے لیکن میرے خیال میں اب تک ہماری شراکت کو ہمارے اہداف کے حصول میں مرکزی اہمیت حاصل رہی ہے اور یہ ہمارے مسلسل باہمی تعاون کی بنیاد کے لیے لازمی حیثیت رکھتی ہے۔

جیسا کہ قبل ازیں حوالہ دیا گیا، ہم نے پہلے ہی ایک بہت بڑا کام مکمل کیا ہے جو کہ کووڈ۔19 کے خلاف اقدامات اور تحفظ صحت سے متعلق ہماری کوششیں ہیں، تاہم ابھی مزید کام باقی ہے جس میں 5 جی پر اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کے سلسلوں میں شراکت کا قیام، ٹیکنالوجی سے متعلق معیارات وضع کرنا اور اپنا کواڈ فیلوشپ پروگرام شروع کرنا شامل ہیں جو میرے خیال میں وہ تبدیلی لا سکتے ہیں جن کے بارے میں ہم پہلے بات کر چکے ہیں۔

اس کے ساتھ ہم اپنی مشترکہ تاریخ کے ایک تاریک وقت سے بھی گزر رہے ہیں۔ یوکرین کے خلاف روس کی سفاکانہ اور بلااشتعال جنگ نے انسانی تباہی کو جنم دیا ہے۔ معصوم شہریوں کو سڑکوں پر ہلاک کیا گیا ہے اور لاکھوں مہاجرین اندرون ملک بے گھر ہو چکے ہیں اور جان بچا کر بیرون ملک جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔

یہ صرف ایک یورپی مسئلے سے کہیں بڑھ کر ایک عالمی مسئلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ ٹیلی ویژن آن کریں تو دیکھیں گے کہ اس وقت روس کیا کر رہا ہے اور مجھے یوں لگتا ہے کہ پیوٹن ایک ثقافت کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ فوجی اہداف کو ہی نشانہ نہیں بنا رہے بلکہ وہ ہر سکول، ہر چرچ، فطرت کی تاریخ کے ہر عجائب گھر پر حملہ کر رہے ہیں جیسے وہ یوکرین کی ثقافت کو مٹانا چاہتے ہوں۔ دنیا کو اس سے نمٹنا ہو گا اور ہم نمٹ رہے ہیں۔

روس کی جانب سے یوکرین کو اس کا لاکھوں ٹن اناج برآمد کرنے سے روکنے کے نتیجے میں خوراک کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ جب تک روس کی جنگ جاری رہے گی امریکہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس کے عالمگیر ردعمل کے لیے کام کرتا رہے گا کیونکہ اس جنگ سے دنیا کا ہر حصہ متاثر ہو رہا ہے۔

اس کے ساتھ امریکہ کو ہند۔الکاہل میں میں ایک مضبوط، ثابت قدم اور پائیدار شراکت دار کا کردار ادا کرنا ہے اور وہ کرے گا۔ ہم ہند۔الکاہل میں ہیں اور خطے کی ایک طاقت ہیں۔

ایک مرتبہ مجھ سے پوچھا گیا کہ، اچھا، میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ تاہم ایک مرتبہ مجھ سے چین کے ایک رہنما نے پوچھا کہ میں امریکہ کے ہند۔الکاہل کی طاقت ہونے کے بارے میں ہمیشہ کیوں بات کرتا رہتا ہوں۔ میں نے جواب دیا ”اس لیے کہ ہم ہند۔الکاہل کی طاقت ہیں۔ ہمارے ملک کی ایک پوری سمت ہند۔الکاہل کے ساتھ ہے۔” ہمارے طویل عرصہ سے آپ تمام ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔

جب تک روس یہ جنگ جاری رکھے گا ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور اس کے خلاف عالمگیر ردعمل کی قیادت کرتے رہیں گے۔

آپ جانتے ہیں، جیسا کہ میں نے کہا کہ ہم ہند۔الکاہل کی ایک طاقت ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ، اپنے قریبی جمہوری شراکت داروں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ہم اپنی مشترکہ اقدار اور مشترکہ تصور کے ساتھ وابستہ رہیں گے۔

آپ جانتے ہیں، روس کی جانب سے یہ حملہ شروع کیے جانے سے کچھ ہی دیر پہلے میری انتظامیہ نے ہند۔الکاہل کے حوالے سے اپنی حکمت عملی شائع کی تھی جس کا مقصد ایک آزاد، کھلے، باہم مربوط، محفوظ اور مضبوط ہند۔الکاہل کو فروغ دینا ہے۔

یوکرین پر روس کے حملے نے اُن اہداف کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ اس میں عالمی نظام کے بنیادی اصول، علاقائی سالمیت اور خودمختاری اور عالمی قانون شامل ہیں۔ انسانی حقوق کا بہرصورت ہمیشہ دفاع ہونا چاہیے خواہ انہیں دنیا میں کہیں بھی پامال کیوں نہ کیا گیا ہو۔

اسی لیے ہمیں کواڈ میں بہت سا کام کرنا ہے۔ ہم نے اس خطے کو پُرامن اور مستحکم رکھنے کے لیے بہت سا کام کرنا ہے۔ ہمیں اس وباء پر قابو پانا اور کسی آئندہ وبا سے نمٹنا ہے اور ہمیں موسمیاتی بحران کے خلاف اقدامات کرنا ہیں جس کا حوالہ ہمارے نئے ساتھی نے دیا ہے اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی ہماری اقدار کے مطابق کام کرے۔

مختصر وقت میں ہم نے ثابت کیا ہے کہ ہم کواڈ میں بدستور اسی جوش و جذبے سے مصروف عمل ہیں جس سے ہم نے آغاز کیا تھا۔ ہم اپنے کام اور مقاصد کے حوالے سے سنجیدہ ہیں۔ ہم یہاں خطے کی خاطر کام کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ہم باہم مل کر جو کام کر رہے ہیں اس پر ہمیں فخر ہے۔ میں اپنی اس اہم شراکت کو آنے والے بہت سے سالوں میں پھلتا پھولتا دیکھنے کا منتظر ہوں۔

جناب وزیراعظم، آپ کا شکریہ۔

10:53 صبح، جاپان کا معیاری وقت


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/speeches-remarks/2022/05/24/remarks-by-president-biden-prime-minister-kishida-fumio-of-japan-prime-minister-narendra-modi-of-india-and-prime-minister-anthony-albanese-of-australia-at-the-second-in-person-quad-leaders/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future