وائٹ ہاؤس
22 ستمبر، 2021

ہم کووڈ۔19 پر عالمی کانفرنس کے تمام شرکاء کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس وباء کے خاتمے اور اس کے بعد بہتر طور سے بحالی کے لیے عالمگیر اہداف کے گرد خود کو منظم کرنے اور اس سلسلے میں درکار متعلقہ اقدامات اٹھانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ حکومتوں، عالمی اداروں اور نجی شعبے کے لیے یہ عالمگیر اہداف اور متعلقہ اقدامات کووڈ۔19 پر کثیرملکی رہنماؤں کی ٹاسک فورس، کووڈ۔19 ٹولز (اے سی ٹی)- ایکسیلیریٹر، جی20، جی7 اور ماہرین پر مشتمل بہت سے کمیشن کے ارکان کی جانب سے طے کیے جانے والے اہداف سے لیے گئے ہیں۔

یہ اہداف اور متعلقہ اقدامات خاصی جرات مندی کا تقاضا کرتے ہیں تاہم یہی وہ اقدامات ہیں جن کی بدولت ہم اس وباء اور اس کے نتیجے میں اپنے ملکوں، لوگوں، صحت اور روزگار کو لاحق خطرے کا قلع قمع کر سکتے ہیں۔ ہمیں دنیا بھر کے لوگوں کو ویکسین لگانے، زندگیاں بچانے اور وباء کے بعد بہتر طور سے بحالی کے لیے اسی وقت عملی قدم اٹھانا ہے۔ ایک مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھے کام کر کے ہی ہم کووڈ۔19 کو شکست دے سکتے ہیں اور دنیا کو آئندہ وباؤں کے مقابلے کی تیاری میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

ہم تمام شرکاء کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں ہماری مجموعی پیش رفت پر نظر رکھنے میں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔ ہم میں سے ہر ایک جو کچھ کر رہا ہے اس کے بارے میں معلومات جمع کر کے ہی ہم اپنی پیش رفت کا جائزہ لینے اور اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے درکار اقدامات اٹھانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اہداف: دنیا بھر کے لوگوں کو ویکسین لگانا

        •   دنیا بھر کے لوگوں کو ویکسین لگانا: ہر ملک میں آمدنی کے ہر درجے کے لوگوں کو معیاری، محفوظ اور موثر ویکسین لگا کر دنیا کی کم از کم 70 فیصد آبادی کو ویکسین کی مکمل خوراکیں لگانے سے متعلق ڈبلیو ایچ او کے ہدف کی تکمیل میں تعاون کرنا۔

        •   ویکسین کی خوراکوں کی ہنگامی بنیادوں پر فراہمی: جی20 کے متعین کردہ اس ہدف کی توثیق کرنا کہ ”عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ہدایات کے مطابق ہم 2021 تک دنیا کی کم از کم 40 فیصد آبادی کو ویکسین لگانے کے ہدف کی حمایت کرتے ہیں۔”

        •   درمیانی اور طویل مدت کے لیے ویکسین کی خوراکوں کی تیاری: 2022 میں تمام ممالک کو ویکسین کی اضافی خوراکیں اور ضرورت کے مطابق طبی سازوسامان میسر ہو گا۔ سائنسی شہادت کی موجودگی میں ایل آئی سی/ایل ایم آئی سی (کم آمدنی اور کم متوسط آمدنی والے ممالک) میں مستقبل کے ویکسین بوسٹر کےلیے اضافی خوراکوں کی پیداوار کے لیے درکار مناسب مالی وسائل کی دستیابی یقینی بنانا۔

حکومتوں اور عالمی اداروں کی متعلقہ صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے ذمہ داریاں: اواخر 2021

        •   کم آمدنی والے ممالک (ایل آئی سی)/ کم متوسط آمدنی والے ممالک (ایل ایم آئی سی) کے لیے مالیاتی اور ترسیلی کمی کو دور کرنا تاکہ وہ 70 فیصد کے ہدف کو پہنچ سکیں اور اس مقصد کے لیے مالی وسائل کی فراہمی، کووڈ۔19 کی ایک ارب معیاری، محفوظ اور موثر ویکسین کی خریداری یا عطیات ممکن بنانا جس میں کوویکس کے ذریعے ویکسین کی دنیا بھر میں مساوی تقسیم بھی شامل ہے۔

        •   2021 میں ایل آئی سی/ ایل ایم آئی سی کو سابقہ وعدوں کے مطابق تقریباً 0 بلین معیاری، محفوظ اور موثر کووڈ۔19 ویکسین کی فراہمی کی رفتار تیز کرنا اور اس مقصد کے لیے ویکسین کی خوراکوں کی فراہمی کے موجودہ وعدوں کو مستقبل قریب میں عملی جامہ پہنانا، ایل آئی سی/ ایل ایم آئی سی کو ویکسین کی جلد فراہمی کے لیے مقررہ تاریخوں کو پیچھے لانا اور ویکسین نیز اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے اہم اجزا کی ترسیل کی راہ میں سرحد پار رکاوٹوں کا خاتمہ کرنا۔

        •   ایل آئی سی/ ایل ایم آئی سی کو ویکسین کی فوری اور موثر فراہمی کے لیے 2021 میں کم از کم 3 بلین اور 2022 میں 7 بلین ڈالر کی دستیابی ممکن بنانا۔ اس مالی مدد کے ذریعے ویکسین کی فراہمی کے لیے درکار طبی عملے کی مدد، ویکسین لگوانے میں ہچکچاہٹ سے نمٹنا، قانونی اور معاہداتی ضروریات پوری کرنا اور ذیلی طبی سازوسامان کی خریداری بھی ممکن بنائی جانا ہے۔

        •   عالمی اور علاقائی سطح پر ویکسین کی خاطرخواہ مقدار میں تیاری میں مدد دینا اور ویکسین بوسٹر سے متعلق ممکنہ ضروریات اور مستقبل میں ویکسین کی تیاری کے لیے مالی وسائل کی فراہمی، ایم۔آر این اے، وائرل ویکٹر اور پروٹین سب یونٹ والی ویکسین کی تیاری (اجازت کی صورت میں) اور ٹیکنالوجی کی منتقلی، اگر ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ویکسین بوسٹر کی سفارش کی جائے تو ایل آئی سی۔ ایل ایم آئی سی کے لیے معیاری، محفوظ اور موثر ویکسین کی 3 بلین اضافی خوراکوں کی خریداری۔

        •   2021 میں دنیا بھر میں ویکسین، قابل صرف ادویات اور ذیلی طبی سازوسامان کی موثر فراہمی کے ذریعے احتساب اور ارتباط میں اضافہ اور اس مقصد کے لیے موجودہ کوششوں کو مدنظر رکھنا۔

نجی شعبے کے مجوزہ وعدے: اواخر 2021

        •   ویکسین کی فوری دستیابی اور ترسیل کے لیے کووڈ۔10 کور کا آغاز۔

        •   ایل آئی سی۔ ایل ایم آئی سی کو ترجیحی بنیاد پر ویکسین کی فراہمی کے لیے تیار کردہ اور مستقبل میں تیار کی جانے والی ویکسین کی مقدار کے حوالے سے شفافیت میں اضافہ، مستقبل میں تیار اور تقسیم کی جانے والی ویکسین سے متعلق معلومات کی فراہمی۔

        •   ایم۔آر این اے، وائرل ویکٹر اور/ یا پروٹین سب یونٹ والی کووڈ۔19 ویکسین کی عالمی اور علاقائی سطح پر تیاری میں اضافہ اور اس تیاری اور درکار مالی وسائل کی فراہمی کی منصوبہ بندی۔

اہداف: ابھی زندگیاں بچائیں

        •   مستقبل قریب میں اور 2022 سے پہلے تمام ممالک میں ایسے طبی مراکز میں آکسیجن کی فوری دستیابی ممکن بنا کر آکسیجن کے بحران کو حل کرنا جہاں مریضوں کو رکھا گیا ہو۔

        •   تمام ممالک یمں 2021 کے اختتام تک ہر 1000 افراد میں سے ایک کے کووڈ ٹیسٹ کا ہدف حاصل کر کے ٹیسٹنگ کے عمل میں کمی دور کرنا۔

        •   2021 میں تمام ایل آئی سی/ ایل ایم آئی سی کی منظور شدہ معیاری، محٖوظ اور موثر علاج معالجے تک بروقت رسائی یقینی بنانا اور 2022 میں ان کے لیے موثر نان۔IV علاج معالجہ ممکن بنانا۔

        •   2021 میں ایل آئی سی/ ایل ایم آئی سی کے تمام طبی کارکنوں کی کووڈ سے حفاظت کے سازوسامان تک رسائی میں اضافے کے لیے اس سازوسامان کی تیاری کی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور موجودہ سازوسامان کے حوالے سے باہم ارتباط کو مزید بہتر بنانا۔

        •   2021 اور 2022 میں دنیا بھر میں جینوم سیکوئنسنگ اور معلومات کے تبادلے کو بہتر بنا کر کووڈ۔19 کی نئی اقسام کی نشاندہی، نگرانی اور ان کے خاتمے کی صورتحال بہتر بنانا۔

متعلقہ صلاحیتوں کی حامل حکومتوں اور عالمی اداروں کی ذمہ داری: اواخر 2021

        •   2022 تک ایل آئی سی/ ایل ایم آئی سی میں آکسیجن ایکو سسٹمز بشمول بڑے پیمانے پر مائع آکسیجن کی دستیابی میں اضافے کے لیے مربوط امداد کے طور پر 2 بلین ڈالر کی فراہمی۔

        •   2022 تک ایل آئی سی/ ایل ایم آئی سی کے لیے ایک بلین معیاری، محفوظ اور موثر ٹیسٹنگ کٹِس کی فراہمی کے لیے مالی وسائل مہیا کرنا۔

        •   2022 تک ایل آئی سی/ ایل ایم آئی سی کے لیے کووڈ۔19 کے علاج کے لیے منظور شدہ ادویات اور طبی سازوسامان کے لیے ایک بلین ڈالر کا عطیہ اور ان مالی وسائل کی تقسیم اور طبی سازوسامان کی خریداری اور تقسیم کے لیے ایک مساوی طریقہ کار کا قیام۔

        •   کووڈ سے بچاؤ کے لیے حفاظتی سازوسامان کی تیاری کی صلاحیت بڑھانے اور 2022 میں اس سامان کی ہر خطے میں تقسیم میں مدد دینا۔

        •   دنیا بھر میں وائرس کی نئی اقسام کی نگرانی اور اس کے تجزیے کی اہلیتوں میں اضافے کے لیے جی7/ ایس7 کاربس بے اعلامیے کی توثیق اور اس مقصد کے لیے وسیع عالمی صلاحیتوں کے لیے وسائل اور وباؤں کے ظہور کا پتا چلانے کے لیے عالمی نظام کے تصور کی حمایت۔

نجی شعبے کے مجوزہ وعدے: اواخر 2021

        •   دنیا بھر کے ممالک اور عالمی اداروں کے اشتراک سے 2 بلین ڈالر کی ایک عالمی حکومتی عملی تیار کرنا اور اس کے لیے مالی وسائل کی فراہمی جس کا مقصد 2022 تک ایل آئی سی/ ایل ایم آئی سی کو آکسیجن ایکو سسٹمز بشمول بڑے پیمانے پر مائع آکسیجن کی دستیابی ممکن بنانا ہے۔

        •   ایل آئی سی/ ایل ایم آئی سی میں کووڈ ٹیسٹ میں اضافہ اور زیادہ سے زیادہ ایک ڈالر مالیت کی ٹیسٹنگ کِٹ کی دستیابی ممکن بنانا۔

        •   بیماری سے بری طرح متاثرہ 12 ملین مریضوں کے لیے ادویات اور علاج معالجے کے منظور شدہ سازوسامان کی تیاری کو وسعت دینا اور اس کی دستیابی ممکن بنانا۔

        •   اس بیماری کے حوالے سے جدت پر مبنی علاج ڈھونڈںے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی جس میں کلینیکل ٹرائل اور کووڈ۔19 کے علاج کے لیے مستقبل کی ادویات (بہترین طور پر منہ کے ذریعے لی جانے والی ادویہ) پر پیش رفت کے لیے رضاکارانہ طور پر ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے۔

        •   دنیا بھر میں اس وائرس کی نئی اقسام کی تلاش کے لیے انقلابی اہلیتیں پیدا کرنے اور انہیں مربوط بنانے کے لیے عالمگیر فریقین بشمول نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو قائل کرنا۔

اہداف: بہتر طور سے بحالی

        •   2021 میں عالمگیر تحفظ صحت کے لیے ایک فنڈ (ایف آئی ایف) کے قیام اور اس کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے ذریعے تحفظ صحت کے شعبے میں پائیدار مالی معاونت۔

        •   سیاسی قیادت کو متحرک کرنا اور 2021 میں رہنماؤں کی سطح کے ادارے جیسا کہ عالمگیر صحت کولاحق خطرات سے متعلق کونسل (جی ایچ ٹی سی) کے ذریعے حیاتیاتی خطرات کی جانب توجہ مبذول کرانا۔

        •   جی20 صدارت کی جانب سے عالمگیر وزارتی طبی و مالیاتی بورڈ سے عملی اقدامات کے مطالبے کی حمایت کرنا

متعلقہ صلاحیتوں کی حامل حکومتوں اور عالمی اداروں کی ذمہ داری: اواخر 2021

        •   کم از کم 30 ممالک اور کم از کم 10 ادارے ایک عالمگیر تحفظ صحت (ایف آئی ایف) کے قیام کے لیے دستخط کریں جس کے کام کی وسعت، اسے درکار کم از کم مالی وسائل کی حد (جیسا کہ 10 ارب ڈالر) اور اس کے میزبان (جیسا کہ ورلڈ بینک) پر سبھی کا اتفاق ہو۔

        •   ایف آئی ایف کو وباؤں کے مقابلے کی فوری تیاری کے لیے درکار کم از کم مالی وسائل کی فراہمی سے متعلق وعدے کیے جائیں جن میں درمیانی مدت کےلیے پائیدار مالی مدد سے متعلق مخصوص تجاویز بھی شامل ہوں اور سرکاری ترقیاتی امداد سے ہٹ کر مالی وسائل کے حصول کی بات بھی شامل ہو۔

        •   تمام خطوں میں کووڈ سے بچاؤ کے لیے حفاظت سازوسامان، ٹیسٹ، علاج معالجے اور ویکسین کی تیاری اور اس کی ترسیل کا نظام مضبوط بنانے کے وعدے کیے جائیں۔

        •   2021 میں جی ایچ ٹی سی کی طرز پر عالمی رہنماؤں کی سطح کا ایک ادارہ قائم کیا جائے اور اس کے سربراہ اور معاون سربراہ کا نام بھی دیا جائے۔

نجی شعبے کی مجوزہ ذمہ داریاں: اواخر 2021

        •   ایف آئی ایف کے لیے افراد اور اداروں کی جانب سے وسائل کی فراہمی کے وعدوں کے ساتھ ایک ”چیلنج” شروع کیا جائے جسے عالمگیر تحفظ صحت کی صلاحیت میں پائیدار طور سے اضافے کے لیے غیر سرکاری اداروں کی مدد حاصل ہو۔

        •   افراد اور ادارے دیگر افراد اور فلاحی اداروں کو ایف آئی ایف کی مالی مدد کے لیے خود مالی وسائل تخلیق کرنے پر قائل کریں۔

        •   افراد اور ادارے حکومتوں سے کہیں کہ وہ سیاسی سطح پر ایک جی ایچ ٹی سی قائم کریں جس میں سول سوسائٹی، نجی شعبے اور/ یا ماہرین کو بھی جگہ دی جائے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/statements-releases/2021/09/22/fact-sheet-targets-for-global-covid-19-summit/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future