امریکی دفتر خارجہ

ترجمان کا دفتر

11 فروری، 2022

امریکہ کے وزیر خارجہ اور آسٹریلیا، انڈیا اور جاپان کی حکومتوں کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ۔

آغازِ متن:

ہم، آسٹریلیا، انڈیا اور جاپان کے وزرائے خارجہ اور امریکہ کے وزیر خارجہ کواڈ کے وزرائے خارجہ کے چوتھے اجلاس کے لیے 11 فروری 2022 کو میلبورن میں مِلے۔ اجلاس میں ہم نے خطہء ہند۔ الکاہل کو آزاد اور کھلے خطے کے طور پر ترقی دینے کے لیے ہند الکاہل کے ممالک کی کوششوں کی حمایت کے لیے کواڈ کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ ایسا خطہ ہو گا جہاں تمام ممالک کو یکساں مواقع ملیں اور جس میں مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت ہو اور جس کے ممالک کسی جبر سے بے نیاز ہو کر اپنے لوگوں کے مفادات کا تحفظ کریں۔

ہم نے اپنے اجلاس میں کواڈ کے مثبت اور پُرعزم ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔ ہماری توجہ خطے کے اہم ترین مسائل سے نمٹنے کے لیے ہند۔ الکاہل کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر مرکوز ہے۔ کواڈ کی حیثیت سے اکٹھے کام کرتے ہوئے ہم خطے کو عملی مدد مہیا کرنے کے لیے مزید موثر انداز میں روبہ عمل ہیں۔

آسیان کے اتحاد اور مرکزیت اور آسیان کے زیرقیادت ڈھانچے کے ثابت قدم حامیوں کی حیثیت سے ہم آسیان کے شراکت داروں سے تعاون کر رہے ہیں تاکہ ہند۔ الکاہل کے حوالے سے آسیان کے نقطہء نظر کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ اس نقطہء نظر میں بتائے گئے اصول علاقائی سلامتی اور خوشحالی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور خطے کے معاشی و سیاسی مستقبل کی جانب رہنمائی کریں گے۔ ہم ذیلی علاقائی طریق کار اور اداروں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں جن میں میکانگ کا ذیلی خطہ بھی شامل ہے۔ ہم 2022 میں آسیان کی صدارت کے لیے کمبوڈیا کے اہم کردار کی حمایت جاری رکھیں گے۔

اس وقت جب ہم کووڈ۔19 وباء کے تیسرے سال میں داخل ہو رہے ہیں تو کواڈ کے شراکت دار خطے کے ممالک کو ویکسین کی 500 ملین سے زیادہ خوراکیں مہیا کر چکے ہیں۔ باہم مل کر ہم نے دنیا بھر میں ویکسین کی 1.3 بلین خوراکیں عطیہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ہمیں انڈیا میں بائیولوجیکل ای لمیٹڈ میں ویکسین کی تیاری کو وسعت دینے کے لیے کواڈ ویکسین پارٹنرشپ کی تیزرفتار پیش رفت پر خوشی ہے۔ اس کا مقصد 2022 کے اختتام تک ویکسین کی کم از کم ایک بلین خوراکیں مہیا کرنا ہے۔ ہم اس سال کے پہلے نصف میں کواڈ کی مدد سے عطیہ کی جانے والی ویکسین کے پہلے حصے کی فراہمی شروع ہونے کے منتظر ہیں۔ ہم طبی کارکنوں کی تربیت، ویکسین لگوانے میں ہچکچاہٹ سے نمٹنے اور ویکسین سے متعلق بنیادی سہولیات خصوصاً اسے ٹھنڈا رکھنے کے نظام کو بہتر بنانے اور نچلی سطح تک ویکسین کی فراہمی میں مدد دے رہے ہیں۔ ہم ویکسین کی فراہمی اور دستیابی میں پائے جانے والے خلا کی نشاندہی اور اسے ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ خلا صنفی تفاوت، معذوری اور سماجی عدم مساوات کے نتیجے میں مزید بڑھ جاتا ہے۔ ہم ایسے علاقوں تک محفوظ، موثر، سستی اور معیاری ویکسین کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں جہاں تک رسائی آسان نہیں ہے۔ ہم اس ضمن میں ‘تعاون بڑھانے کی غرض سے عالمگیر عملی منصوبے’ کے تحت کووڈ وباء کا مقابلہ کرنے کے اقدامات کو مربوط بنانے کے لیے بروقت اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم علاقائی مسائل سے نمٹنے کے لیے کواڈ کے وزرائے خارجہ کی حیثیت سے اپنے زیرقیادت عملی تعاون کے لیے پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ان میں انسانی امداد اور قدرتی آفات سے تحفظ دلانے کے اقدامات (ایچ اے ڈی آر)، سمندری سلامتی، انسداد دہشت گردی، غلط اطلاعات کے پھیلاؤ سے نمٹنا اور سائبر سکیورٹی جیسے مسائل شامل ہیں۔

ہم خطے میں ایچ اے ڈی آر سے متعلق باہمی تعاون کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ 2004 سے، جب ہم نے بحر ہند میں آنے والے سونامی کے دوران مشترکہ امدادی اقدامات کیے تھے، کواڈ کے شراکت داروں نے ہند۔ الکاہل میں قدرتی آفات کی صورت میں فوری اور موثر حفاظتی اور امدادی اقدامات کیے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہے کہ حالیہ قدرتی آفات اور کووڈ۔19 وباء نے ایسے واقعات کی صورت میں تحفظ کے موثر انتظامات کرنے اور انہیں قائم رکھنے کی ضرورت واضح کر دی ہے اور ہمیں جنوری 2022 میں ٹونگا میں آتش فشاں پھٹنے اور سونامی آنے کے بعد حفاظتی اور امدادی اقدامات اور بحالی کی کوششوں میں ٹونگا کی مدد کرنے پر فخر ہے۔ ہم اپنے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں بروقت اور موثر ایچ اے ڈی آر مدد مہیا کرنے کے لیے اپنے امدادی اداروں کے مابین روابط قائم کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

کواڈ یہ سمجھتا ہے کہ عالمگیر قانون، امن اور سمندری نقل و حمل کی سلامتی ہند۔ الکاہل میں ترقی اور خوشحالی ممکن بنانے میں مدد دیتی ہے۔ ہم عالمی قانون کی پاسداری کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہیں، خاص طور پر جیسا کہ سمندری قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی ایل او ایس) سے ظاہر ہوتا ہے جس کا مقصد قانون کی بنیاد پر سمندری نظام کو لاحق مسائل سے نمٹنا ہے جن میں جنوبی اور مشرقی چینی سمندر بھی شامل ہیں۔ ہم صلاحیت میں اضافے اور تکنیکی معاونت سمیت بہت سے اقدامات کے ذریعے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اپنا ربط مضبوط کرنے کا عزم رکھتے ہیں تاکہ سمندری امور پر آگاہی کو بہتر کیا جائے، یو این سی ایل او ایس کی مطابقت سے سمندری وسائل سے کام لینے کے لیے اپنے شراکت داروں کی اہلیت کا تحفظ کیا جائے، سمندر میں اور سمندر کے اوپر فضا میں سفر کی آزادی یقینی بنائی جائے، غیرقانونی، بلا اطلاع اور بے ضابطہ ماہی گیری جیسے مسائل سے نمٹا جائے اور سمندری مواصلاتی راستوں کا تحفظ اور سلامتی بہتر بنائی جا سکے۔

کواڈ مسلسل بڑھتے خطرات پر اطلاعات کا تبادلہ کر رہا ہے اور ہر طرح کی دہشت گردی اور متشدد انتہاپسندی پر قابو پانے کے لیے ہند۔ الکاہل کے ممالک اور کثیرملکی سطح پر مصروف عمل ہے۔ ہم سرحد پار دہشت گردی کے لیے دہشت گرد آلہ کاروں کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں اور ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے، دہشت گردی کے نیٹ ورک اور انہیں مستحکم کرنے والے ڈھانچوں اور مالیاتی ذرائع کا خاتمہ کرنے اور دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت روکنے کے لیے مل کر کام کریں۔ اس تناظر میں ہم تمام ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ یقینی بنائیں کہ ان کے زیرتسلط علاقہ دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہو اور ایسے حملوں کا ارتکاب کرنے والوں کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ ہم انڈیا میں دہشت گرد حملوں کی ایک مرتبہ پھر مذمت کرتے ہیں جن میں 11/26 کے ممبئی حملے اور پٹھان کوٹ میں ہونے والے حملے بھی شامل ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کی قرارداد 2593 کی ازسرنو توثیق کرتے ہیں جس کی رو سے افغان سرزمین کسی ملک کے لیے خطرہ پیدا کرنے یا اس پر حملے کرنے، دہشت گردوں کو پناہ یا تربیت دینے یا دہشت گردی کے اقدامات کی منصوبہ بندی یا ان کے لیے مالی مدد مہیا کرنے کے لیے استعمال نہ ہو۔ ایسی جگہیں ہند۔ الکاہل کے تحفظ اور سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں جہاں حکومتوں کا اختیار نہ چلتا ہو۔

کواڈ علاقائی ہمسایہ ممالک کو مضبوط بنانے اور غلط اطلاعات کا پھیلاؤ روکنے میں مدد دے رہا ہے۔ ہم ہند۔ الکاہل کے پورے خطے میں اپنے شراکت داروں کو تاوان کے لیے کی گئی سائبر کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے میں بھی مدد دیں گے اور اس سلسلے میں ان کی صلاحیتوں کو مضبوط بنائیں گے تاکہ مضبوط سائبر سکیورٹی یقینی بنائی جائے اور سائبر جرائم سے نمٹا جا سکے۔ ہم سائبر میدان میں عالمگیر امن و استحکام کو فروغ دینے اور ریاستی سطح پر ذمہ دارانہ طرزعمل سے متعلق اقوام متحدہ کے رضاکارانہ فریم ورک پر عملدرآمد کے لیے علاقائی ممالک کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔

کواڈ کے شراکت دار آزاد، کھلے اور قانون کی بنیاد پر جامع نظام کے حامی ہیں جس کی بنیاد عالمگیر قانون پر ہو اور جو علاقائی ممالک کی خودمختاری اور زمینی سلامتی کا تحفظ کرے۔ ہم قوانین کی بنیاد پر کثیرملکی تجارتی نظام کو قائم رکھنے اور اسے مضبوط بنانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں جس میں عالمی تجارتی تنظیم کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ہم اس نظام سے برعکس جابرانہ معاشی پالیسیوں اور طریقہ ہائے کار کے مخالف ہیں اور ایسے اقدامات کے خلاف عالمگیر معاشی مضبوطی کے لیے اکٹھے کام کریں گے۔

ہم اپنی سفارتی کوششیں مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کے ڈیزائن، تیاری، اس پر قابو رکھنے اور اس کے استعمال سے متعلق کواڈ کے اصولوں کے تحت ہمارا تصور تمام ہم خیال ممالک بھی اپنا سکیں۔ ماحول دوست توانائی کی ترسیل کے ذمہ دارانہ اور مضبوط نظام قائم کرنے میں تعاون کے لیے کواڈ کے رہنماؤں کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ہم 2022 کے وسط میں ماحول دوست توانائی کی ترسیل کے نظام سے متعلق ہند۔ الکاہل کے فورم کے انعقاد کے بارے میں آسٹریلیا کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ہم اپنے اس یقین کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہمارے ممالک کے لوگوں کے باہمی تعلقات کواڈ کی ایک بہت سے بڑی طاقت ہیں اور ہم سائبر سکیورٹی، سمندری سلامتی، غلط اطلاعات کے پھیلاؤ سے نمٹنے اور حکمرانی میں شفافیت کو فروغ دینے کے شعبوں میں امریکہ کی جانب سے شروع کردہ باہم تبادلے کے نئے پروگراموں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم اپنے متعلقہ تزویراتی مفکرین کے مابین ٹریک 1.5 ڈائیلاگ منعقد کرانے پر غور کر رہے ہیں۔

کواڈ وزرائے خارجہ کے اپنے ایجنڈے کے ساتھ ہم اہم شعبوں میں کواڈ کے رہنماؤں کے عزائم کو عملہ جامہ پہنانے سے متعلق جاری دیگر کاموں کا خیرمقدم بھی کرتے ہیں جن میں کواڈ ویکسین پارٹنرشپ، موسمیاتی تبدیلی، سائبر سکیورٹی، بنیادی ڈھانچہ، خلا کا پُرامن استعمال، تعلیم اور اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کیا جانے والا کام شامل ہے۔

ہمیں میانمار میں بحران پر گہری تشویش ہے اور ہم تشدد کے خاتمے، غیرملکیوں سمیت ناجائز طور پر قید کیے گئے تمام لوگوں کی رہائی اور ضرورت مندوں تک امداد کی بلاروک ٹوک رسائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم میانمار کی صورتحال کا حل نکالنے کے لیے آسیان کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور فوجی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ آسیان کے پانچ نکاتی سمجھوتے پر فوری عملدرآمد کرے اور میانمار کو تیزی سے جمہوری راہ پر ڈالے۔ ہم عالمی برادری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ تشدد کے خاتمے کی حمایت میں مل کر کام کرے۔

ہم شمالی کوریا کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں (یواین ایس سی آر) کو پامال کرتے ہوئے عدم استحکام کا باعث بننے والے بیلسٹک میزائل تجربات کی مذمت کرتے ہیں اور یواین ایس سی آر کی مطابقت سے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ ہم اس بات کی دوبارہ تصدیق کرتے ہیں کہ جاپان کے اغوا کیے گئے شہریوں کا مسئلہ فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم 2022 کے پہلے نصف میں جاپان کی جانب سے کواڈ رہنماؤں کی آئندہ کانفرنس کی میزبانی کے منتظر ہیں۔

ہم خطے کو اچھائی کی قوت کے طور پر فائدہ پہنچانے کے لیے سالانہ بنیادوں پر ملاقاتیں جاری رکھیں گے۔

اختتامِ متن۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/joint-statement-on-quad-cooperation-in-the-indo-pacific/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future