امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن کا بیان
22 اپریل 2021

آج 51ویں یومِ ارض پر ہمیں موسمیاتی بحران سے نمٹنے اور تمام انسانوں کے فائدے کے لیے اپنی زمین کو بحال کرنے کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں اندازاً ایک ارب لوگ یومِ ارض پر عملی اقدام کے لیے متحرک ہوتے ہیں اور اس سال امریکہ ان اقدامات میں ان کے ساتھ ہے۔ آج صبح صدر بائیڈن دنیا بھر کے رہنماؤں کا موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر رہنماؤں کی دو روزہ کانفرنس میں خیرمقدم کریں گے۔ اس موقع پر دنیا کی بڑی معیشتیں اور دیگر اہم آوازیں موسمیاتی مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمگیر عزم کو ترقی دیں گی اور مستقبل میں کاربن کا اخراج نیٹ-زیرو سطح پر لاتے ہوئے عالمی حدت 1.5 ڈگری سیلسیئس تک رکھنے کے ہدف کو قائم رکھنے کی کوششوں کو مزید موثر بنائیں گی۔

عالمگیر اداروں، سول سوسائٹی اور دوسری حکومتوں کے ساتھ مل کر ہم جنگلوں، دلدلی زمینوں اور سمندروں جیسے ماحولی نظام اور حیاتی تنوع کی حفاظت کا عمل جاری رکھیں گے، پائیدار زراعت اور ماہی گیری کو فروغ دیں گے، درختوں کی غیرقانونی کٹائی اور غیرقانونی کان کنی کو روکیں گے اور جنگلی حیات کی غیرقانونی خریدوفروخت اور غیرقانونی، بلااطلاع اور بے ضابطہ ماہی گیری سے نمٹیں گے۔ ہم کرہ ارض کے قدرتی حسن کو محفوظ رکھنے اور موجودہ اور مستقبل کی نسلوں کو معاشی فوائد مہیا کرنے میں مدد دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہم صرف امید رکھنے کے بجائے بہت کچھ کر سکتے ہیں، ہم مل کر دلیرانہ قدم اٹھا سکتے ہیں۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/earth-day-2021/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future