وائٹ ہاؤس
ولینئس یونیورسٹی
ولینئس، لتھوینیا
شام 7 بجکر 51 منٹ ای ای ایس ٹی

صدر: ہیلو لتھوینیا! (تالیاں۔) جیسا کہ میری والدہ کہتی تھیں کہ “خدا آپ سے پیار کرتا ہے۔” کوئی نشست خالی نہیں۔ بہت خوب۔ (قہقہے۔)
ولینئس میں دوبارہ آنا اور ایک ایسے ملک اور ایک ایسے خطے میں دوبارہ آنا اچھا لگ رہا ہے جو کسی بھی خطے کی نسبت آزدی کی بدلنے کی طاقت کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ (تالیاں۔) آپ کو بخوبی علم ہے کہ آپ نے دنیا پر ثابت کیا ہے کہ ایک متحدہ قوم کی طاقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
جڑت کے ذریعے آپ نے اپنے ایستونیا اور لاتھویا کے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر تقسیم کے ایک دور کا خاتمہ کرنے میں مدد کی۔ دیوار برلن نہیں بلکہ بالٹک کا طریقہ یورپ کے مستقبل کی علامت بن گیا۔
بعد میں جب سوویت ٹینکوں نے ایک بار پھر آپ کی آزادی کو جھٹلایا تو ولینئس کے لوگوں نے نہ کہا “نہیں۔” نہیں، نہیں، نہیں۔ جنوری 1991 میں دسیوں ہزاروں غیرمسلح ہار نہ ماننے والے شہری یک جان ہو کر ٹی وی ٹاور کی حفاظت کے لیے، سپریم کونسل کو بچانے کے لیے، آزادی کے دفاع کے لیے اپنی مرضی سے باہر نکلے۔

14 ہیروز نے المناک طور پر اپنی جانیں دیں۔ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ مگر پوری دنیا نے دیکھا کہ برسوں کا جبر آزادی کے شعلے کو مدھم کرنے کے لیے کچھ نہ کر سکا۔ (تالیاں۔) حقیقی معنوں میں میرا یہ مطلب ہے۔ اِس کا نتیجہ یہی ہونا تھا۔
لتھوینیا کی روشنی: آپ نے اسے جاندار رکھا۔ آپ نے اسے روشن رکھا۔ اور آپ نے اسے یہاں ولینئس اور واشنگٹن، ڈی سی میں جہاں آپ کا پیلا، سبز اور سرخ پرچم ہر روز لہراتا رہا، جلائے رکھا۔

پچھلے ہی برس ہم نے امریکہ اور بالٹک ریاستوں کے درمیان مسلسل سفارتی تعلقات کی سوویں سالگرہ منائی۔

امریکہ نے بالٹکس کے سوویت قبضے کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا۔ جناب صدر کبھی نہیں، کبھی نہیں، کبھی نہیں۔ (تالیاں۔)

اس کے علاوہ آپ کو ایک عظیم صدر ملے ہیں۔ (تالیاں۔) کھڑے ہوئیے۔ نہیں، کھڑے ہوئیے۔

جیسا کہ آپ کے صدر آپ کو بتا سکتے ہیں کہ لتھوینیا اور امریکہ کے درمیان بندھنوں میں کوئی رخنہ نہیں پڑا۔

اور جنوری کی اُس خونی کاروائی کے محض سات ماہ بعد آپ کے دوبارہ بننے والے ملک کے ویزے لیے اپنے پاسپورٹوں پر یہاں لتھوینیا میں مہریں لگوانے والے پہلے غیرملکی مہمان شکاگو، ایلانائے کے لتھوینیائی نژاد امریکی تھے جو جہاز بھر کے [یہاں پہنچے تھے۔]

حاضرین میں سے کوئی شخس: لاس اینجلیس سے بھی۔

صدر: لاس اینجلیس اس کے بعد آتا ہے۔ (قہقہے۔) اس کے بعد بہت کچھ ہوا۔

اس طیارے میں آنے والے بہت سے لوگ سوویت جبر کے ابتدائی برسوں میں لتھوینیا چھوڑ کر چلے گئے تھے اور ایک آزاد ملک میں اپنی واپسی پر حیرت زدہ تھے۔ اِن میں سے ایک نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ “یہ دن ہمارے لیے دوبارہ جی اٹھنے کے دن کی مانند ہے۔” اصلی جملہ یہ تھا کہ “اے خدا ہمارے لیے یہ دن دوبارہ جی اٹھنے کی مانند ہے۔” یہ جذبات تھے۔ (تالیاں۔)

اور یہ دوبارہ جی اٹھنے کا ایک ایسا دن تھا جو بہت جلد چونکا دینے والا دن بن گیا۔ اور ایک ایسا ملک جو آج آزادی اور مواقع کا ایک مضبوط قلعہ بن کر کھڑا ہے [اور] یورپی یونین اور نیٹو کا ایک فخرمند رکن ہے۔ (تالیاں۔)

بطور امریکی سینیٹر میں نے 2004 میں لتھوینیا اور دیگر بالٹک ریاستوں کی نیٹو میں شمولیت کی پرزور حمایت کی۔ ایسا کر کے میں نے کیسی ذہانت کا مظاہرہ نہیں کیا؟ (قہقہے۔)

مزاق اپنی جگہ مگر ذرا سوچیے اس سے چیزیں کیسے بدلیں۔ کیا ہوا ذرا غور کیجیے۔

گزشتہ چند دنوں میں امریکہ کے صدر کی حیثیت سے لتھوینیا کی میزبانی میں مجھے نیٹو کے اُس تاریخی اجلاس میں شریک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جس میں ہم نے نیٹو کے تازہ ترین اتحادی، فن لینڈ کو خوش آمدید کہا اور سویڈن کو جتنی جلدی ممکن ہو سکے اس اتحاد میں شامل کرنے کے ایک سمجھوتے پر پہنچے۔ (تالیاں۔) صدر اردوان نے اپنے وعدے کا پاس کیا۔
ہم نے آپ کا تاریخی سفر دیکھا ہے۔ اور مجھے لتھوینیا کو دوست، شراکت دار اور حلیف کہنے پر فخر ہے۔ حلیف۔ حلیف۔ (تالیاں۔)
عنقریب نیٹو میں 32 خود مختار – 33 خود مختار – 32 خود مختار رکن ہوں گے – (قہقہے۔) جو ہمارے عوام، ہمارے علاقے کا دفاع کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ سب سے بڑھکر [وہ] ہمیں مضبوط بنانے کے لیے جمہوری اقدار اور ہمارے اِس مقدس حلف کے پابند ہوں گے کہ ایک کے خلاف حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیٹو کے ہر رکن کوعلم ہے کہ ہمارے لوگوں کی طاقت اور ہمارے اتحاد کی قوت کو جھٹلایا نہیں کیا جا سکتا۔ (تالیاں۔)

اگر میں امید پرست لگتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں امید پرست ہوں۔

آج ہمارا اتحاد عالمی سلامتی اور استحکام کی اُسی طرح کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا ہوا ہے جیسا سات عشروں سے زائد چلا آ رہا ہے۔ نیٹو پہلے سے زیادہ مضبوط [اور] متحرک ہے۔ اور ہاں تاریخ میں جتنا متحد آج ہے اتنا متحد پہلے کبھی نہ تھا۔ یقینی طور پر [ایسا] ہمارے مشترکہ مسقبل کی وجہ سے ہے۔

ایسا حادثاتی طور پر نہیں ہوا۔ یہ ناگزیر نہیں تھا۔

جب پیوٹن نے اپنی زمین اور اقتدار کی ہوس کے تحت یوکرین کے خلاف اپنی وحشیانہ جنگ کا آغاز کیا تو وہ یہ ادھار کھائے بیٹھے تھے کہ نیٹو ٹوٹ جائے گا۔ وہ یہ شرط باندھے بیٹھے تھے کہ نیٹو ٹوٹ جائے گا۔ اُنہوں نے سوچا کہ ہمارا اتحاد پہلی ہی آزمائش پر بکھر جائے گا۔ اُنہوں نے سوچا کہ جمہوری رہنما کمزور ثابت ہوں گے۔ مگر وہ غلط تھے۔
[جب] خطرے کا سامنا ہوا (تالیاں۔) [جب] دنیا کے امن اور استحکام اور ہمیں عزیز جمہوری اقدار بلکہ خود آزادی خطرے میں پڑی تو ہم نے وہی کیا جو ہم ہمیشہ کرتے ہیں۔ امریکہ میدان میں نکلا۔ نیٹو میدان میں نکلا۔ یورپ، بحرہند و بحرالکاہل کے خطے میں ہمارے شراکت دار میدان میں نکلے۔ دنیا بھر کے ہمارے شراکت دار میدان میں نکلے۔

ہم تیار تھے کیونکہ ہم متحد تھے۔

جنگ سے پہلے کے مہینوں میں جب پیوٹن نے یوکرین کی سرحدوں پر فوج جمع کی اور ایک وحشیانہ حملے کی راہ ہموار کی تو میں اپنے جی سیون، یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھی رہنماؤں کے ساتھ مستقل رابطے میں رہا۔

ہم نے دنیا کو پیوٹن کی منصوبہ بندی کے بارے میں خبردار کیا۔ حتٰی کہ یوکرین میں بھی بعض لوگوں نے اِس پر یقین نہیں کیا جس کی ہماری انٹیلی جنس کمیونٹی کو اطلاع تھی۔ ہم نے یہ یقینی بنایا کہ نیٹو اپنے کسی بھی رکن ملک کے خلاف کی جانے والی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہے۔ ہم نے اس خوفناک جنگ کو روکنے کے لیے روس کے ساتھ بھرپور سفارت کاری سے کام لیا۔ اور جب روس کے بم برسنے شروع ہوئے تو ہم نے عملی قدم اٹھانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔

ہم نے یوکرین کے بہادر عوام کی حمایت کرنے کے لیے ایک ایسے وقت دنیا کو اکٹھا کیا جب وہ حیرت انگیز شان سے اپنی آزادی اور اپنی خودمختاری کا دفاع کر رہے تھے۔ (تالیاں۔) یہ بات میں اپنے دل کی گہرائیوں سے کہہ رہا ہوں۔ اس کے بارے میں سوجیے۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کے بارے میں سوچیے۔

انسانیت کے خلاف جرائم سمیت روس کی افواج کے خوفناک مظالم ڈھائے جانے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد یوکرین کے لوگوں کو توڑا نہیں جا سکا۔ ناقابل شکست۔ (تالیاں۔) یوکرین بدستور خود مختار ہے۔ یہ بدستور آزاد ہے۔ اور امریکہ نے اب اور مستقبل میں یوکرین کے اپنا دفاع کرنے کو یقینی بنانے کے لیے 50 سے زائد ممالک کا ایک اتحاد تشکیل دیا ہے۔

جب سے یہ جنگ شروع ہوئی ہے میں واشنگٹن میں، کیئف میں، ہیروشیما میں اور ہاں اب یہاں ولینئس میں دنیا کو وہ کچھ بتانے کے لیے صدر زیلنسکی کے ساتھ کھڑا ہوا جسے میں آج ایک بار پھر بتانا چاہتا ہوں۔ ہمارے قدم نہیں ڈگمگائیں گے۔ (تالیاں۔) ہمارے قدم نہیں ڈگمگائیں گے۔ حقیقی معنوں میں میرا یہ مطلب ہے۔ یوکرین سے جڑا ہمارا عزم کمزور نہیں پڑے گا۔ ہم آج، آنے والے کل آزادی اور خودمختاری کے ساتھ کھڑے ہوں گے چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔ (تالیاں۔)

ہم سب چاہتے ہیں کہ یہ جنگ منصفانہ شرائط کے تحت ختم ہو۔ وہ شرائط جن میں اقوام متحدہ کے منشور کے اُن بنیادی ترین اصولوں کا پاس کیا گیا ہو جن پر ہم سب نے دستخط کر رکھے ہیں یعنی خود مختاری [اور] علاقائی سالمیت۔ ملکوں کے مابین پرامن تعلقات کے یہ دو اہم ستون ہیں۔ کسی ملک کو اپنے ہمسائے کی سرزمین کو بذریعہ طاقت ہتھیانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

روس اس جنگ کو یوکرین کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں سے اپنی فوجیں ہٹا کر اور روس پر غیرانسانی حملے – میرا مطلب روس کے یوکرین پر، بچوں پر – عورتوں اور بچوں پر، اس کی [یوکرین] کی فوج پر اپنے حملے بند کر کے آج ہی ختم کر سکتا ہے۔

بدقسمتی سے روس نے اب تک کسی سفارتی حل میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ پیوٹن اب بھی غلط طور پر یہ یقین کیے ہوئے ہیں کہ وہ یوکرین کو زیر کر سکتے ہیں۔ انہیں اس پر یقین نہیں آ رہا کہ یہ اِن [یوکرینیوں] کی سرزمین ہے۔ یہ اُن کا ملک ہے۔ یہ اُن کا مستقبل ہے۔

اور اس سب کچھ کے باوجود پیوٹن کو ہمارے ڈٹے رہنے کی طاقت پر اب بھی شک ہے۔ وہ اب بھی ایک بری شرط لگائے بیٹھے ہیں کہ امریکہ اور ہمارے حلیفوں اور شراکت داروں کا یقینِ محکم اور اتحاد دم توڑ جائے گا۔

وہ ابھی تک یہ نہیں سمجھتے کہ ہماری اقدار اور آزادی سے جڑا عزم ایک ایسی چیز ہے جس سے [ہم] کبھی نہیں، کبھی نہیں، کبھی نہیں، کبھی نہیں منہ موڑیں گے۔ یہی ہماری پہچان ہے۔ (تالیاں۔) حقیقی معنوں میں میرا مطلب یہی ہے۔ یہی ہماری پہچان ہے۔ یہی ہماری پہچان ہے۔

اس پوری ہولناک جنگ کے دوران بالٹک کے اپنے بھائیوں سمیت، لتھوینیا کے عوام کا شمار یوکرین کے اپنی پسند کے ایک ایسے مستقبل کے حق کے پرزور حامیوں میں ہوتا ہے جو آزاد ہو۔

کیونکہ آپ نے بہت طویل عرصے تک آزادی کے بغير زندگی گزاری ہے اس لیے آپ ميں سے بہت سے عمررسيدہ لوگ کہیں زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ اپنے مستقبل کا خود تعین کرنے کا حق کتنا قیمتی ہے – یہ [حق] پوری دنیا کے لوگوں کے لیے قیمتی ہے۔ ہر کہیں قیمتی ہے۔ ایسا نہ صرف یوکرین میں ہے بلکہ بیلاروس، مالدووا، جارجیا اور دنیا کے تمام مقامات پر ہے جہاں لوگ اپنی آوازوں کے سنے جانے کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔

لہذا، آج رات آپ سب کے لیے میرا یہ پیغام ہے کہ اسے جاری رکھیں۔ چلتے رہيں۔ دنیا کو اُس امید کے بارے میں یاد دلاتے رہیں جس کا مجسم لتھوینیا ہے۔ اور یہ وہی ہے جس کے آپ مجسم ہیں یعنی اس ملک سے امید۔ (تالیاں۔) نہیں، میرا واقعی یہ مطلب ہے۔ میں مذاق نہیں کر رہا۔ میرا یہ مخلصانہ مطلب ہے۔

ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ [کام] بہت اہم ہے۔ اور آنے والے بہتر کل کے بارے میں ہمت کبھی نہ، کبھی نہ ہاریں۔ آزادی کا دفاع ایک دن یا ایک برس کا کام نہیں ہے۔ یہ ہماری زندگی بھر کا اور ہر دور کا اہم ترين فرض ہے۔

ہم آگے کی جدوجہد کے لیے فولادی حوصلہ رکھتے ہیں۔ ہمارا اتحاد نہیں ٹوٹے گا۔ میں آپ سے سے وعدہ کرتا ہوں. (تالیاں۔)

دوستو آج جب میں جنگ اور خطرات کے لمحے میں، مسابقت اور غیریقینی کے لمحے میں پوری دنیا پر نظر دوڑاتا ہوں تو اس میں میں بے مثال موقعوں کا ایک لمحہ بھی دیکھتا ہوں- جی ہاں بے مثال موقعے کا لمحہ۔ یعنی اس میں امن اور مشترکہ خوشحالی، آزادی اور وقار، قانون کی حکمرانی کے تحت یکساں انصاف، انسانی حقوق اور اُن بنیادی آزادیوں کی عظیم دنیا کی سمت میں حقیقی قدم اٹھانے کا ایک ایسا موقع بھی ہے جو تمام انسانوں کے لیےایک نعمت ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کا پیدائشی حق ہے۔

یہی وہ دنیا ہے جس کے لیے امریکہ کام کر رہا ہے۔ اور یہ وہ دنیا ہے جس تک ہم اسی صورت میں پہنچ سکتے ہیں اگر ہم مل جل کر کام کریں۔ میرا مطلب ہے اکٹھے مل کر کام کریں۔

ہمیں اُسی جذبے، اتحاد، مشترکہ مقصد، مصمم ارادے کو اپنانے کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ ہم نے یوکرین میں روس کی جارحیت کے ردعمل میں کیا ہے اور ایک ایسے وقت مزید شراکت داروں کو ساتھ ملانے کی ضرورت ہے جب ہم ایک ایسی دنیا کی تعمیر کے لیے کام کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں جس ميں ہم رہنا چاہتے ہیں اور وہ دنیا جو ہم اپنے بچوں کے لیے چاہتے ہیں۔

میرے دوستو، سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ ہميں ایک انتخاب کا سامنا ہے۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ ہميں انتخاب کرنا ہے یعنی ہمیں اس میں انتخاب کرنا ہے کہ آیا یہ جبر اور استحصال کی حامل ایسی دنیا ہو جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہو، یا ایک ایسی دنیا ہو جہاں ہم یہ تسلیم کریں کہ ہماری اپنی کامیابی دوسروں کی کامیابیوں سے جڑی ہوئی ہیں۔
جب دوسرے بہتر ہوتے ہیں تو ہم بھی بہتر ہوتے ہیں۔ ہمیں آج جن مشکلات کا سامنا ہے اُن کے بارے میں ہم جانتے ہیں۔ ان کا تعلق موسمیاتی تبدیلی کے وجودی خطرے سے لے کر ایسی عالمی معیشت کی تعمیر تک سے ہے جہاں کوئی پیچھے نہ رہے۔ یہ اتنی بڑی مشکلات ہیں کہ کوئی ملک انہیں اکیلا حل نہیں کر سکتا۔ اِن پر قابو پانے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی خاطر اور اس دور کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے ليے ہمیں اکٹھے مل کر کام کرنا ہوگا۔

اور ميں خلوصِ دل سے سمجھتا ہوں کہ دنیا بدل رہی ہے۔ ہمارے پاس تبدیلی کی اِن حرکیات کو بدلنے کا ایک موقع ہے۔
اسی وجہ سے میں صدر کی حیثیت سے ایسے اتحادوں کی تعمیرِنو اور انہیں مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہوں جو امریکی قیادت کے ستون ہیں۔

گزشتہ برس ہم نے عالمی استحکام کی اساسی حیثیت سے یورپ اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی اہمیت کی تصدیق کرتے ہوئے ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ خیال مناسب نہیں کہ امریکہ یورپ کو محفوظ بنائے بغیر خوشحال ہو سکتا ہے۔

ہم نے اس [اتحاد] کو بھی بڑھایا ہے — (سامعین کی تالیاں) — وہ یہ ہے — واقعی ایسا نہیں ہے۔ کوئی مذاق نہیں۔ (تالیاں۔)

میں بعض اوقات میرا مطلب ہم نے بحرہند و بحرالکاہل میں جاپان، جمہوریہ کوریا، آسٹریلیا اور فلپائن کے ساتھ امریکہ کے اُس اتحاد میں بھی اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ گہرائی پیدا کی ہے جو دنیا میں اہمیت کی حامل اِس خطے میں انتہائی اہم سکیورٹی فراہم کرتا ہے اور اس سے جارحیت کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

اپنی کواڈ شراکت داری کے ذریعے جو کہ ہماری آسٹریلیا، بھارت، جاپان اور امریکہ کے درمیان شراکت کاری کو نام دینے کا ایک نیا طریقہ ہے، ہم خطے کی بڑی جمہوریتوں کو بحرہند و بحرالکاہل کو آزاد، کھلا، خوشحال، اور محفوظ رکھنے کے لیے تعاون کرنے کی خاطر اکٹھا کر رہے ہیں۔

ہم نے نیٹو کے اِس سربراہی اجلاس میں اس امر کا عملی مظاہرہ کیا ہے کہ بحرہند و بحرالکاہل کے شراکت دار مسلسل دوسرے سال اس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس سے ہم بحر الکاہل اور بحراقیانوس کی جمہوریتوں کے درمیان روابط کو وسعت دینے پر کام کر رہے ہیں تاکہ ہم مل کر اُن مشترکہ اقدار کے لیے بہتر طریقے سے کام کر سکیں جن کہ لیے ہم کوشاں ہیں۔ اِن اقدار میں مضبوط اتحاد، ہمہ گیر شراکتیں، مشترکہ مقصد، مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی عملی اقدامات شامل ہیں۔

دنیا سکڑ گئی ہے۔ اسی طرح ہم مستقبل کی تعمیر ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اشتراک کرتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارے چیلنج مشترکہ ہیں اور ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔

ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے- [ہمیں] کھیل کے بنیادی اصولوں کو مضبوط بناتے ہوئے اور اِن کا دفاع کرتے ہوئے وسیع ترین اور مضبوط ترین اتحاد تشکیل دینا ہے تاکہ اُن غیرمعمولی فوائد کو محفوظ رکھا جا سکے جو قانون کی حکمرانی پر استوار بین الاقوامی نظام سے حاصل ہوتے ہیں۔

ہمیں مل کر اُن حقوق اور آزادیوں کو تحفظ دینا ہو گا جو اُن خیالات اور تجارتوں کے بہاؤ کی ضمانت دیتے ہیں جن سے دہائیوں پر پھیلی عالمی ترقی میں آسانیاں پیدا ہوئیں۔ جی ہاں [اِن میں] سالمیت اور خودمختاری کے ساتھ ساتھ جہاز رانی اور فضائی حدود سے گزرنے کی آزادی جیسے اصول بھی شامل ہیں۔ ہمیں اپنے مشترکہ سمندروں اور اپنی فضاؤں کو بھی کھلا رکھنا ہوگا تاکہ ہر ملک کو ہماری مشترکہ جگہ تک برابر کی رسائی حاصل ہو۔

اور ایسے میں جب ہم نئے امکانات کے دور کی جستجو کر رہے ہیں یعنی ایک ایسا دور جو اختراع میں ہونے والیں پیشرفتوں سے وجود میں آیا، ہمیں یہ یقینی بنانے کے لیے ایک ساتھ کھڑا ہونا ہوگا کہ مستقبل کی ہماری مشترکہ جگہیں خود ہمارے لیے اور دوسروں کے لیے اعلٰی ترین امنگوں کی عکاس ہوں۔ جیسا کہ میرے والد کہا کرتے تھے کہ ہر ایک کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہیے، یعنی مصنوعی ذہانت، انجنیئرنگ، بیالوجی، اور ابھرتی ہوئیں دیگر ٹکنالوجیوں کو جبر کا ہتھیارنہ بنایا جائے بلکہ انہیں مواقعوں کے وسائل کے طور پر استعمال کیا جائے۔

ہم اپنے حلیفوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے رسدی سلسلے بنا رہے ہیں جو زیادہ مضبوط اور محفوظ ہوں تاکہ ہمیں عالمی وبا کے دوران پیش آنے والے حالات جیسے حالات کا دوبارہ کبھی سامنا نہ کرنا پڑے جب ہم وہ انتہائی ضروری اشیا نہ حاصل کر سکتے تھے جن کی ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں ضرورت ہوتی ہے۔

آپ کو علم ہے کہ ہم سب کو موسمیاتی بحران میں تیزی سے ہونے والے اضافے اور وجودی خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ ارادے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ یہ سنگین ہے۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں بچا۔ یہ انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔

اور مل کر کام کرنے ہی سے ہم اپنے مستقبل، اپنے بچوں کے مستقبل اور بچوں کے بچوں کے متسقبل کو تباہ کن موسمیاتی تبدیلی کے بدترین نتائج سے محفوظ کر پائیں گے۔

ہمیں اُن ممکنہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں مدد کرنے کے لیے اپنی مشترکہ ذمہ داریوں کو بھی پورا کرنا ہوگا جو دنیا بھر کے کم اور درمیانی آمدنی والے [ممالک] کے حوالے سے ہم پر عائد ہوتی ہیں۔ یہ کام خیراتی طور پر نہیں بلکہ اس لیے کرنا ہوگا کہ یہ ہمارے اپنے مفاد میں ہے۔ ہم سب کو اُس وقت فائدہ پہنچتا ہے جب زیادہ شراکت دار مشترکہ مقاصد کے لیے کام کرنے کے ليے ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں- جب لوگ زیادہ صحت مند اور زیادہ خوشحال ہوتے ہیں تو اس سے ہم سب کا فائدہ ہوتا ہے۔ اور ایک بار پھر کہوں کہ یہ کوئی خام خیالی نہیں۔ یہ سچ ہے۔ جب زیادہ سے زیادہ کاروباری منتظمین اور اختراع پسند ایک بہتر آنے والے کل کے لیے اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے قابل ہوتے ہیں تو اس سے ہم سب کا فائدہ ہوتا ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ آج کی باہم جڑی دنیا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہمیں اپنے کام کرنے کے طریقوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں موسمیاتی تباہ کاریاں، وبائی امراض، تنازعات سرحدوں کے آر پار پھيل جاتے ہيں اورغربت اور عدم استحکام کے اُن چیلنجوں سے نمٹنا مزید مشکل ہو جاتا ہے جو بہت سارے لوگوں کے ہاتھ باندھ دیتے ہیں۔

یہی وجہ کہ امریکہ عالمی بنک جیسے کثیرالجہتی بنکوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی قیادت کر رہا ہے تاکہ اُن کے غربت کو کم کرنے اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینے کے بنیادی مشن کو فروغ دیتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے بہتر طریقے سے نمٹنے میں مدد کی جا سکے۔

ہم سب مل کر دنیا بھر میں اور بالخصوص افریقہ، لاطینی امریکہ، اور جنوب مشرقی ایشیا کے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں اعلٰی معیار کے بنیادی ڈہانچوں کی بے تحاشا ضرورت پوری کرنے کے لیے جی سیون کے اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یہ اُس دنیا کے بارے میں ہماری سوچ ہے جو ہم مل کر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

خواتین و حضرات ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں، تاریخ کے ایک ایسے دوراہے پر جہاں جو فیصلے ہم اب کریں گے وہ آنے والے عشروں میں ہماری سمت کا تعین کرتے رہیں گے۔ دنیا بدل چکی ہے۔

کیا آج ہم ننگی، بے قابو جارحیت کی حوصلہ شکنی کریں گے تاکہ آنے والے کل کے حارحین کو باز رکھا جا سکے؟

اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے کیا ہم ہم موسمیاتی بحران کو روکیں گے؟

کیا ہم نئی ٹکنالوجیوں کو آزادی کو فروغ دینے کے لیے بروئے کار لائیں گے یا اِن سے [آزادی کو] کم کریں گے؟

کیا ہم مزید جگہوں پر مواقعوں کو فروغ دیں گے یا عدم استحکام اور عدم مساوات کو برقرار رکھیں گے؟

جس طرح ہم اِن سوالات کے جواب دیں گے وہ حقیقی معنوں میں ہمارے بچوں اور ہمارے بچوں کے بچوں کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ ایک بار پھر کہوں کہ یہ کوئی مبالغہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔ اس کے لیے ہم سب کو کام کرنا ہوگا۔ ہم سب کو۔

مجھے یقین ہے کہ ارادے کے ساتھ، اپنی ذات پر اور ایک دوسرے پر اعتماد کے ساتھ، مشترکہ نصب العین کے لیے مل کر کرنے والیں اقوام کے ساتھ مل کر ہم اِن سوالات کے جواب دے سکتے ہیں۔ ہم اُس تصور کو یقینی بنا سکتے ہیں جسے ہم آپس میں شیئر کرتے ہیں اور اُن آزادیوں کو جنہیں ہم عزیز رکھتے ہیں۔ ایک مشکل وقت میں یہ کوئی کھوکھلے الفاظ نہیں ہیں۔ یہ ایک روڈ میپ ہے۔ اس سے مراد ایک حقیقی روڈ میپ سے ہے جو کہ اُس مستقبل کی جانب فوری عملی اقدامات اٹھانے کا ایک منصوبہ ہے جسے ہم حاصل کر سکتے ہیں اور اگر ہم مل کر کام کریں تو اسے ہم پا لیں گے۔

دوستو ہمارے سامنے جو راستہ ہے وہ کٹھن ہے۔ یہ ہمیں چیلنج کرے گا۔ اپنی بہترین ذاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں، ایک دوسرے پر بھروسہ کریں اور کبھی ہمت نہ ہاریں، امید کا دامن کبھی نہ چھوڑیں۔ کبھی نہیں۔

ہر روز ہمیں انتخاب کرنا ہوگا۔ ہر روز ہمیں جو صحیح ہے اس کے حق میں کھڑا ہونے کے لیے، جو سچ ہے اُس کے لیے، آزادی کے لیے، مل کر کھڑے ہونے کے لیے، ہمیں اپنی طاقت کو استعمال کرنا ہوگا۔

اور میرے دوستو یہی وہ سبق ہے جو ہم تاریخ سے سیکھتے ہیں، جو ہم لتھوینیا کی کہانی سے سیکھتے ہیں۔ آپ کو علم کہ آپ ہر دن اس سبق کا عملی مظاہرہ ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اور یہی اس بات کا تعین کرے گا کہ یوکرین کیسا ہوگا۔ اور ہم اسی طرح کام کریں گے، اسی طرح امن اور امید، انصاف اور روشنی، آزادی، سب لوگوں کے لیے ہر جگہ امکانات کا مستقبل ایک بار پھر رقم کریں گے۔

دوستو بعض لوگوں نے مجھے اپنے ملک میں یہ کہتے ہوئے کئی بار سنا ہے کہ میں اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں مستقبل کے امکانات کے بارے میں اتنا پر امید نہیں رہا جتنا اب ہوں۔ کبھی بھی نہیں۔ کبھی بھی نہیں۔

لہذا مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ یہاں پر آ کر سننے کے لیے وقت نکالنے پر آپ کا شکریہ۔

خدا آپ سب پر رحمتیں فرمائے۔ خدا یوکرین میں آزادی کے محافظین کی، یہاں پر، دنیا کے ہر ملک میں، ہر کہیں اِن کی حفاظت فرمائے۔ خدا ہماری افواج کے حفاظت فرمائے۔ شکریہ۔ شکریہ۔ شکریہ۔ (تالیاں۔)

شام 8 بجکر 12 منٹ ای ای ٹی


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/speeches-remarks/2023/07/12/remarks-by-president-biden-on-supporting-ukraine-defending-democratic-values-and-taking-action-to-address-global-challenges-vilnius-lithuania 
یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future