امریکی دفتر خارجہ
ترجمان کا دفتر
اقوام متحدہ کا ہیڈکوارٹر
نیویارک، نیویارک
وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن کا بیان
22 ستمبر، 2022

وزیر خارجہ بلنکن: (بذریعہ ترجمان) صدر محترمہ، یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کے بحران میں اس نہایت گمبھیر موقع پر کونسل کے ارکان کو اکٹھا کرنے پر آپ کا بہت شکریہ۔

(انگریزی میں) جناب سیکرٹری جنرل، آپ کے عزم اور اس سفاکانہ جنگ کا خاتمہ کرنے اور اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کے دفاع کے لیے اخلاقی صراحت پر آپ کا شکریہ۔ ہم بحیرہ اسود کے راستے یوکرین کے اناج کی ایک مرتبہ پھر ترسیل ممکن بنانے میں ذاتی کاوشوں پر بھی آپ کے شکرگزار ہیں۔

جنابِ خان، ہم روس کی فوج کی جانب سے یوکرین میں روا رکھے جانے والے مظالم کی معروضی اور پیشہ وارانہ طور سے تفتیش کرنے پر پراسیکیوٹر کے دفتر کی کوششوں اور اس سلسلے میں یوکرین کے تفتیش کاروں اور وکلا کی مدد کرنے اور ان کے ساتھ رابط پر بھی اسے سراہتے ہیں۔

ہم نے اقوام متحدہ میں ممالک کے مابین اختلافات کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔ لیکن حال ہی میں یوکرین پر روس کی جنگ کے معاملے میں اس کے رکن ممالک کے مابین غیرمعمولی اتحاد حیران کن ہے۔ ترقی پذیر و ترقی یافتہ، بڑے اور چھوٹے، شمالی اور جنوبی ممالک جنرل اسمبلی میں اس جنگ کے نتائج اور اسے ختم کرنے کی ضرورت پر بات کر چکے ہیں۔ انہوں ںے ہم سب سے کہا ہے کہ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کے بنیادی اصولوں سے اپنی وابستگی کی دوبارہ توثیق کریں جن میں خودمختاری، زمینی سالمیت اور انسانی حقوق شامل ہیں۔

ماسکو کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے ممالک نے بھی کھل کر کہا ہے کہ انہیں صدر پیوٹن کے اس وقت جاری حملے کے پر سنجیدہ سوالات اور خدشات ہیں۔

تاہم صدر پیوٹن اپنا راستہ تبدیل کرنے کے بجائے جنگ میں مزید شدت لے آئے ہیں۔ انہوں نے جنگ ختم کرنے کے بجائے اسے پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے یوکرین سے اپنی فوج واپس بلانے کے بجائے تین لاکھ مزید فوجیوں کو طلب کر لیا ہے۔ انہو نے تناؤ ختم کرنے کے بجائے جوہری ہتھیاروں کی دھمکی کے ذریعے اس میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں ںے مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کے بجائے یوکرین کے مزید علاقے کا جعلی ریفرنڈم کے ذریعے اپنے ساتھ الحاق کرنے کے لیے ایسے حل کو ناممکن بنا دیا ہے۔

صدر پیوٹن نے یہ کام اسی ہفتے کیا جب بیشتر دنیا اقوام متحدہ میں جمع ہے۔ پیوٹن کا مقصد اس آگ کو مزید بھڑکانا ہے جو انہوں نے شروع کی تھی اور وہ اقوام متحدہ کے چارٹر، جنرل اسمبلی اور اس کونسل کی مکمل توہین کر رہے ہیں۔

ہم جس عالمی نظام کو قائم رکھنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں اسے ہماری آنکھوں کے سامنے توڑا جا رہا ہے۔ ہم صدر پیوٹن کو اس کی کھلی چھوٹ نہیں دے سکتے اور نہیں دیں گے۔

یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کسی ایک ملک کے اپنا راستہ خود منتخب کرنے کے حق کی حمایت میں کھڑے ہونے سے کہیں بڑھ کر ہے جو کہ اس حق کی طرح بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی نظام کو تحفظ دینے کا معاملہ بھی ہے جس میں کوئی ملک کسی دوسرے کی سرحدوں کو بزور طاقت تبدیل نہیں کر سکتا۔

اگر ہم ایسے وقت میں اس اصول کے دفاع میں ناکام رہتے ہیں جب کریملن اسے کھل کر پامال کر رہا ہے تو گویا یہ ہر جگہ جارحین کے لیے پیغام ہو گا کہ وہ بھی اسے نظرانداز کر سکتے ہیں۔ ایسے میں ہم ہر ملک کے لیے خطرہ پیدا کر دیں گے اور دنیا کو پہلے سے کم محفوظ اور کم پُرامن بنا دیں گے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ روس کی افواج کے زیرتسلط یوکرین کے کچھ حصوں میں یہ صورتحال کیسی نظر آتی ہے۔ جہاں کہیں بھی روس پیچھے ہٹتا ہے وہاں ہم اس کی موجودگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دہشتناک صورتحال کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

چند ہفتے پہلے میں نے اس دہشت کا خود مشاہدہ کیا جب میں یوکرین کے تفتیش کاروں سے ملاقات کے لیے اِرپن میں موجود تھا جو وہاں جنگی جرائم کے ارتکاب کے ثبوت ترتیب دے رہے تھے۔ میں نے روس کی بمباری سے رہائشی عمارتوں کی دیواروں میں سوراخوں کا بغور مشاہدہ کیا۔ روس کا یہ اقدام انتہائی اندھا دھند اور بدترین طور سے دانستہ تھا۔

اس وقت جب ہم یہاں جمع ہیں تو یوکرین سے تعلق رکھنے والے اور بین الاقوامی تفتیش کار ازیوم کے مضافات میں قبر کشائی کر رہے ہیں۔ اس شہر پر چھ ماہ تک روس کی فوج کا قبضہ رہا جسے بعدازاں یوکرین کے جوابی حملے میں واگزار کرا لیا گیا۔ وہاں ایک جگہ پر قریباً 440 بے نام قبریں ہیں۔ اب تک اس جگہ قبروں سے ملنے والی متعدد لاشوں پر تشدد کے نشانات ملنے کی اطلاع ہیں جن میں ایک لاش ایسی تھی جس کے بازو ٹوٹے ہوئے تھے اور اس کی گردن میں رسہ تھا۔

اس علاقے میں متاثرین کی داستانیں بھی سامنے آ رہی ہیں جن میں سے ایک شخص کا کہنا ہے کہ اسے بارہ روز تک روس کی فوج کے تشدد کا نشانہ بننا پڑا اور اس دوران تفتیش کار اسے متواتر بجلی کے جھٹکے دیتے رہے۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ ”انہوں ںے مجھے اس قدر مارا پیٹا کہ میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔”

یہ سرکش فوجی یونٹوں کے اقدامات نہیں ہیں۔ روس کی افواج کے زیرتسلط تمام علاقے میں ایسے واقعات عام ہیں۔

یہ ان بہت سی وجوہات میں سے ایک ہے جن کی بنا پر ہم یوکرین میں جنگی جرائم کی بڑھتی ہوئی شہادتیں جمع کرنے اور ان کا جائزہ لینے  کے لیے بہت سی قومی و بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

یہ ان وجوہات میں سے بھی ایک ہے جن کی بنا پر 40 سے زیادہ ممالک یوکرین کے لوگوں کو اپنے دفاع کی جنگ میں مدد دینے کے لیے جمع ہوئے۔ یہ ایک ایسا حق ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں بیان کیا گیا ہے۔

روس کی افواج کو میدان جنگ میں جتنا زیادہ نقصان ہوتا ہے وہ یوکرین کے شہریوں کو اتنی ہی زیادہ تکلیف پہنچاتی ہے۔ ڈیموں، پُلوں، بجلی گھروں، ہسپتالوں اور دیگر شہری تنصیبات پر روس کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں جو کہ بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

اس ہفتے صدر پیوٹن نے کہا کہ روس اپنی علاقائی سالمیت کو لاحق خطرے کا جواب دینے کےلیے اسلحے کے تمام دستیاب نظام آزمانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ روس کی جانب سے آنے والے دنوں میں یوکرین کے بڑے حصوں کا اپنے ساتھ الحاق کرنے کے ارادے کی موجودگی میں یہ خدشہ اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔ جب ایسا ہو گیا تو ہم توقع رکھ سکتے ہیں کہ صدر پیوٹن یوکرین کی جانب سے اسے آزاد کرانے کے لیے کی جانے والی کسی بھی کوشش کو نام نہاد ”روسی علاقے” پر حملہ قرار دیں گے۔

یہ سب کچھ ایک ایسے ملک کی جانب سے ہو رہا ہے جس نے اس سال جنوری میں اسی جگہ سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ارکان کے ساتھ مل کر ایک اعلان پر دستخط کیے تھے جس میں یہ توثیق کی گئی کہ ”جوہری جنگ کبھی نہیں جیتی جا سکتی اس لیے یہ کبھی نہیں لڑی جانی چاہیے۔” یہ روس کی جانگ سے اس ادارے کے سامنے کیے گئے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ایک اور مثال اور اس بات کی ایک اور وجہ ہے کہ آج کسی بھی ملک کو روس پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔”

سلامتی کونسل کے ہر ملک کو چاہیے کہ وہ ایک واضح پیغام بھیجے کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی لاپرواہانہ دھمکیوں کو فوری بند ہونا چاہیے۔

یوکرین کے مزید علاقے کا اپنے ساتھ الحاق کرنے کے لیے روس کی کوشش ایک اور خطرناک اشتعال انگیزی اور سفارت  کاری سے انکار کے مترادف ہے۔

روس کی فوج کے زیرقبضہ یوکرین کے مختلف علاقوں میں لوگوں کی ‘چھانٹی’ کرنے کی کارروائیوں کے ہوتے ہوئے یہ صورتحال اور بھی تشویش ناک ہو جاتی ہے۔ یوکرین کے ہزاروں لوگوں کو تشدد کے ذریعے ان کے علاقوں سے نکالنا اور وہاں روس کے لوگوں کو بسانا، ووٹ کی بات کرنا اور اپنے زیرقبضہ علاقوں میں لوگوں کی جانب سے روس کے ساتھ الحاق کی تقریباً متفقہ حمایت دکھانے کےلیے انتخابی نتائج میں ردوبدل کرنا ایک شیطانی حکمت عملی ہے۔ یہ بالکل کرائمیا کے واقعات سے ملتی جلتی صورتحال ہے۔

جیسا کہ کرائمیا کے حوالے سے دیکھا گیا، یہ اس کونسل کے ہر رکن ملک کے لیے اور اس معاملے میں اقوام متحدہ کے ہر رکن کے لیے لازمی ہے کہ وہ اس جعلی ریفرنڈم کو مسترد کرے اور واضح طور پر اعلان کرے کہ یوکرین کا علاقہ یوکرین کا حصہ ہے اور رہے گا اور اس علاقے کے اپنے ساتھ الحاق سے متعلق روس کا کوئی دعویٰ یوکرین سے اپنی سرزمین کے دفاع کا حق نہیں چھین سکتا۔

پیوٹن کا حملہ اس کونسل، درحقیقت اقوام متحدہ کے پورے نظام کی ان سنگین مسائل سے توجہ ہٹا رہا ہے جن پر ہم سب دھیان دینا چاہتے ہیں۔ ان میں موسمیاتی آفت کی روک تھام، قحط کے دھانے پر موجود لاکھوں لوگوں کی امداد، پائیدار ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے ایجنڈا 2030 کی تکمیل اور ہماری باہم مربوط طبی سلامتی کو بہتر بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ یہ مسائل ان لوگوں کی زندگیوں پر واضح اثر ڈالتے ہیں جن کی ہم یہاں نمائندگی کر رہے ہیں اور وہ لوگ ہماری جانب دیکھ رہے ہیں کہ ہم انہیں فائدہ پہنچائیں گے۔

اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی بھاری اکثریت ان مسائل پر اکٹھے کام کرنے کا عزم رکھتی ہے اور ہمارے اقدامات اس کا ثبوت ہیں۔

اب تک ایک سو سے زیادہ ممالک نے ضرورت مند لوگوں کو غذائی امداد دیے کے لائحہ عمل پر دستخط کیے ہیں اور افریقہ، ایشیا، براعظم ہائے امریکہ اور یورپ عالمگیر نظام ہائے خوراک کی مضبوطی میں اضافے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں جبکہ روس نے مہینوں سے یوکرین کے غلے کی دنیا کو ترسیل روک رکھی تھی یہاں تک کہ اقوام متحدہ اور ترکی نے اس اناج کی ترسیل ممکن بنانے کے لیے ایک معاہدہ کیا۔ روس بدستور یوکرین کے کھیتوں اور اناج کے گوداموں پر بم برسا رہا ہے اور انہیں اپنے قبضے میں لے رہا ہے، اس کے گندم کے کھیتوں میں بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے جس سے ہر جگہ لوگوں کے لیے خوراک کی قیمت بڑھ گئی ہے۔

اگرچہ دنیا بھر کی حکومتیں اس وبا کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی تنظٰموں، نجی شعبے اور فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں اور یہ یقینی بنا رہی ہیں کہ ہم آئندہ وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر طور سے تیار ہوں، جبکہ ایسے میں روس ڈبلیو ایچ او کی منظوری شدہ ویکسین کے حوالے سے ادھوری اور غلط اطلاعات پھیلا رہا ہے جس سے لوگوں میں ویکسین لگوانے کے حوالے سے ہچکچاہٹ بڑھ گئی ہے اور اس سے ہمارے تمام ممالک میں لوگ بہت بڑے خطرے کی زد میں ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے کسی نے بھی یہ جنگ منتخب نہیں کی۔ یوکرین کے لوگوں نے بھی یہ جنگ منتخب نہیں کی کیونکہ وہ جانتے ہیں اس سے کتنی تباہی ہو گی۔ یہ جنگ امریکہ نے بھی شروع نہیں کی جس نے خبردار کیا تھا کہ حملہ ہونے والا ہے اور اسے روکنے کے لیے کام کیا تھا۔ اقوام متحدہ میں ممالک کی بہت بڑی تعداد نے بھی یہ جنگ شروع نہیں کی۔

ہمارے لوگوں نے اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے بھی یہ جنگ شروع نہیں کی جو بڑے پیمانے پر غذائی عدم تحفظ اور خوراک کی قیمتوں میں بھاری اضافے کی صورت میں جنگ کے نقصانات محسوس کر رہے ہیں۔

روس میں کسی ماں باپ نے بھی یہ جنگ شروع نہیں کی جن کے بچے لڑنے کے لیے بھیجے جا رہے ہیں اور جو اس جنگ میں ہلاک ہو رہے ہیں۔ روس کے شہریوں نے بھی یہ جنگ شروع نہیں کی جو اس کے خلاف احتجاج کی خاطر اپنی آزادی کو داؤ پر لگا رہے ہیں اور ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو صدر پیوٹن کی جانب سے ”ہمارے بچوں کو زندہ رہنے دو” ک نعرے پر لام بندی کا اعلان کیا۔

درحقیقت یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ یوکرین کے خلاف صدر پیوٹن کی اس جارحیت سے روس کے لوگوں کی زندگیوں میں یا ان کے امکانات میں کون سی مثبت تبدیلی آئی۔

ایک ہی شخص نے یہ جنگ شروع کی ہے اور وہی اسے ختم کر سکتا ہے کیونکہ اگر روس لڑنا بند کر دے تو جنگ ختم ہو جائے گی۔ اگر یوکرین لڑنا بند کرے دے تو وہ خود ختم ہو جائے گا۔

اسی لیے ہم یوکرین کو اس کے دفاع کی جنگ میں مدد دیتے رہیں گے اور مذاکراتی میز پر منصفانہ شرائط کے تحت اس مسئلے کے سفارتی حل تک پہنچنے کے لیے اس کے ہاتھ مضبوط کریں گے۔ جیسا کہ صدر زیلنسکی نے تواتر سے کہا ہے، سفارتی کاری اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔ لیکن سفارت کاری یوکرین پر کوئی ایسا سمجھوتہ تھوپنے کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی ایسا کرنا چاہیے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہو یا اس سے روس کو اس کی خلاف ورزی سے فائدہ ہو۔

صدر پیوٹن اپنا فیصلہ کر رہے ہیں اور اب یہ ہمارے تمام ممالک پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

صدر پیوٹن سے کہیں کہ وہ اس خوفناک جنگ کو ختم کریں جو انہوں نے شروع کی تھی۔ انہیں بتائیں کہ وہ اپنے مفادات کو باقی دنیا اور اپنے لوگوں کے مفادات پر مقدم رکھنا چھوڑ دیں۔ انہیں بتائیں کہ وہ اس کونسل اور اس کے مقاصد کو بدنام کرنا چھوڑ دیں۔

”ہم، اقوام متحدہ کے لوگ پرعزم ہیں” اقوام متحدہ کے چارٹر کی تمہید کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے کہ یہ بات مت بھولیں کہ اب بھی ہم لوگوں نے اس ادارے اور ہماری دنیا کے مقدر کا انتخاب کرنا ہے۔ یہ واضح ہے کہ ہمارا کیا کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ انتخاب ہم نے کرنا ہے۔ آئیے اس دنیا کے لیے درست انتخاب کریں جو ہم چاہتے ہیں اور جس کے ہمارے لوگ پوری طرح مستحق ہیں۔ شکریہ۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-at-the-united-nations-security-council-ministerial-meeting-on-ukrainian-sovereignty-and-russian-accountability/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future