امریکی دفتر خارجہ
ترجمان کا دفتر
17 اگست، 2023

روس کے پھیلائے گمراہ کن مغالطے ان ٹھوس حقائق کو چھپا نہیں سکتے کہ (1) پابندیوں کا اطلاق روس کی اناج کی تجارت پر نہیں ہوتا، (2) کم آمدنی والے ممالک کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں یوکرین کے اناج کا اہم کردار ہے، (3) روس یوکرین کے اناج کی ترسیلات کا متبادل نہیں ہو سکتا، (4) کریملن اس سے کہیں بڑی مقدار میں اناج کو برباد کر رہا ہے جتنی اس نے عطیہ کرنے کی پیشکش کی ہے، اور (5) روزانہ بڑی تعداد میں روس کے میزائل اور ڈرون دانستہ اس اہم نظام کو نشانہ بناتے ہیں جو یوکرین کے اناج کو باقی دنیا تک پہنچانے اور خوراک کی قیمتیں مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

“ماسکو نے عالمگیر تباہی کی جنگ چھیڑ رکھی ہے: یہ جنونی خوراک کی عالمی منڈی کا انہدام چاہتے ہیں، انہیں قیمتوں کا بحران چاہیے، یہ خوراک کی ترسیلات میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔ کوئی یہ سوچتا ہے کہ اس سے کمائی کی جا سکتی ہے۔ ماسکو میں کسی کو یہ امید ہے کہ اس طرح مالی وسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ یہ نہایت خطرناک توقعات ہیں۔” یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلنسکی کا بیان، 2 اگست، 2023

17 جولائی 2023 کو روس نے جھوٹے بہانوں سے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمد کے اقدام (بی ایس جی آئی) سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس یکطرفہ اقدام کے نتیجے میں وہ معاہدہ معطل ہو گیا جس کی بدولت تقریباً 33 ملین ٹن اناج کی برآمدات عالمی منڈیوں تک پہنچیں جن میں نصف سے زیادہ اناج اور دو تہائی گندم ترقی پذیر ممالک کو بھیجی گئی۔ یہ خوراک 18 بلین روٹیوں کے برابر تھی۔ اس سے چند روز کے بعد دنیا بھر میں اناج کی قیمتوں میں 17 فیصد اضافہ ہو گیا جبکہ روس نے ریکارڈ مقدار میں اناج برآمد کرنے کا اعلان کیا۔ کریملن نے یوکرین کی بندرگاہوں اور اناج پر حملوں میں اضافہ کرتے ہوئے دنیا کے انتہائی بدحال لوگوں کی قیمت پر عالمی منڈی میں خوراک کے نرخ اپنے حق میں بلند کیے۔ روس نے ‘بی ایس جی آئی’ کے حوالے سے بداعتمادی پھیلانے کی کوشش میں متواتر غلط اطلاعات سے کام لیا اور اس اقدام سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی جب جولائی 2022 سے جولائی 2023 تک یہ فعال تھا۔

‘بی ایس جی آئی’ سے ماسکو کی دستبرداری کے بعد کریملن پانچ مغالطوں کو برقرار رکھنے کی کوشش میں اعدادوشمار کو بگاڑنے، حقائق کو جھٹلانے اور حساب کتاب کو توڑ موڑ کر پیش کرنے میں مصروف ہے۔ پہلی بات یہ کہ کریملن غلط طور سے روس کو اناج اور کھاد کی برآمدات پر پابندیوں سے متاثرہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ روس کی جانب سے اپنی ہی برآمدات پر پابندیوں اور یوکرین کے خلاف اس کی غیرقانونی جنگ نے اناج اور کھاد کی ترسیلات میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ماسکو غلط طور سے دعویٰ کرتا ہے کہ کم آمدنے والے ممالک کو ‘بی ایس جی آئی’ سے فائدہ نہیں ہوا جبکہ حقیقت یہ ہےکہ اس اقدام کے ذریعے برآمد کردہ اناج میں سے تقریباً 20 ملین ٹن ترقی پذیر ممالک کو بھیجا گیا۔ اس اقدام سے خوراک کی عالمگیر قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور یوکرین کے اناج کو انتہائی ضرورت مند ممالک تک پہنچانے میں مدد ملی جس سے اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کو بھی بہت فائدہ ہوا۔ تیسری بات یہ کہ کریملن دنیا بھر میں خوراک کی ترسیل میں یوکرین کے اناج کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے جھوٹے دعوے کر رہا ہے اور اس کے ساتھ یوکرین کی اناج برآمد کرنے کی صلاحیت کو فعال طور سے ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے جس سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو خوراک مہیا کی جا سکتی ہے۔ چوتھی بات یہ کہ ماسکو خود کو عالمگیر غذائی تحفظ کے لیے بلند نظر مددگار اور ضامن کے طور پر پیش کر رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈبلیو ایف پی کی معاونت کرنے والے ممالک میں روس کا 34واں درجہ ہے حالانکہ اس کے ہاں ریکارڈ زرعی پیداوار متوقع ہے۔ پانچویں بات یہ کہ جہاں کریملن غلط طور سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ‘بی ایس جی آئی’ کی حفاظتی راہداری کی آڑ میں یوکرین نے عسکری سرگرمیاں انجام دیں، وہیں اس نے یوکرین کی غیرفوجی بندرگاہوں پر حملے تیز کر دیے ہیں اور یوکرین کی حکومت کے مطابق ان کے نتیجے میں 220,000 ٹن اناج تباہ ہو چکا ہے۔ اس سے کریملن کا حقیقی مقصد سامنے آتا ہے کہ یوکرین کا اہم معاشی ذریعہ ختم کر دیا جائے۔

کریملن کی جانب سے اعدادوشمار کو بگاڑنے اور گمراہ کن حساب کتاب پیش کرنے سے حقائق چھپ نہیں سکتے۔ روس نے یوکرین کے خلاف بلااشتعال، بلاجواز اور غیرقانونی جنگ چھیڑی ہے۔ کریملن یوکرین کی بندرگاہوں کو بند کر رہا ہے اور خوراک لے جانے والےغیرفوجی بحری جہازوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے جبکہ روس کے میزائل یوکرین میں اناج کے گوداموں اور اس کی ترسیل کے مراکز کو تباہ کر رہے ہیں۔ ‘بی ایس جی آئی’ سے ماسکو کی دستبرداری کے نتیجے میں روس کو اپنے اناج کی بلند قیمت مل رہی ہے اور دنیا کے انتہائی بدحال لوگوں کی قیمت پر کریملن کے جنگی خزانے بھرے جا رہے ہیں۔ روس خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور اپنی بھرپور فصل سے منافع کمائے گا جبکہ وہ خوراک کے شعبے میں اپنے سب سے بڑے تجارتی حریف یوکرین کا خاتمہ کر رہا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دنیا انتہائی ضرورت مند لوگوں کو خوراک پہنچانے میں یوکرین کے اہم کردار کو بھول جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ روس واحد جارح ہے جو دنیا کے ضرورت مند ترین لوگوں کو اناج کی ضروری ترسیل روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بھوک کا بطور ہتھیار استعمال

یوکرین کے خلاف کریملن کی بلااشتعال اور ناقابل جواز جنگ نے یوکرین کی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں غذائی عدم تحفظ میں اضافہ کر دیا ہے۔ یوکرین کو طویل عرصہ سے یورپ کو اناج فراہم کرنے والے اہم ملک کی حیثیت حاصل رہی ہے جس نے دنیا بھر میں بھی لاکھوں لوگوں کو خوراک بہم پہنچائی ہے۔ 2021 میں میں یہ افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے درجنوں ممالک کو اناج فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا۔ فروری 2022 میں یوکرین کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کے بعد روس نے بحیرہ اسود میں یوکرین کے تجارتی راستے بند کر دیے ہیں، یوکرین کی زرعی زمینوں میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں، فصلوں کو جلا دیا ہے، یوکرین میں خوراک ذخیرہ کرنے کے انتظام کو تباہ کر دیا ہے، افرادی قوت کی قلت پیدا کی ہے اور تجارتی بحری جہازوں اور بندرگاہوں کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ روس اپنے فائدے کے لیے یوکرین کا اناج بھی چرا رہا ہے۔ جیسا کہ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت نے بتایا، یوکرین کے خلاف کریملن کی جنگ نے “بحیرہ اسود کے خطے میں زرعی پیداوار اور تجارت کو تہ و بالا کر دیا اور 2022 کی پہلی ششماہی میں عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں بے مثال اضافے کا سبب بنی۔”

جولائی 2022 میں اقوام متحدہ اور ترکیہ کی ثالثی میں بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کا اقدام (بی ایس جی آئی) طے پایا جس کا مقصد یوکرین کی بندرگاہوں سے اناج، متعلقہ خوراک  اور کھادوں کی محفوظ انداز میں برآمد اور اس طرح یہ یقینی بنانا تھا کہ تجارتی بنیادوں پر بھیجی جانے والی خوراک اور کھادیں عالمی منڈیوں میں پہنچ سکیں۔ ترکیہ اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ سفارت کاری کی بہت اعلیٰ مثال تھا۔ کیئو اور ماسکو نے ‘بی ایس جی آئی’ میں شمولیت اختیار کی اور یہ اقدام عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں کمی لانے اور فوری ضرورت کا اناج دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچانے کے لیے بہت اہم ثابت ہوا۔

روس۔ افریقہ کانفرنس میں مفروضے، حساب کتاب اور گمراہ کن دعوے

جولائی 2022 سے جولائی 2023 تک جب ‘بی ایس جی آئی’ فعال تھا تو روس نے اس معاہدے کے حوالے سے بداعتمادی پھیلانے کی کوشش میں متواتر غلط اطلاعات اور جھوٹے بہانوں سے کام لیا اور اس اقدام سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی۔ جیسا کہ ‘گلوبل انگیجمنٹ سنٹر’ نے قبل ازیں اپنے مئی 2023 کے بلیٹن ‘روس غذائی تحفظ پر اپنے حملے بند کرے’ میں بتایا تھا، کریملن نے عالمگیر غذائی تحفظ کو متواتر بطور ہتھیار استعمال کیا اور جھوٹی اطلاعات پھیلائیں جبکہ وہ خود یوکرین کے خلاف بڑے پیمانے پر اپنے حملے سے شدت اختیار کر جانے والے غذائی بحران سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں تھا۔ ‘بی ایس جی آئی’ سے روس کی دستبرداری کے بعد صدر ولاڈیمیر پیوٹن اور کریملن کے غلط اطلاعات اور پروپیگنڈے کے نظام نے اپنے پرانے جھوٹے بیانیوں سے گرد جھاڑی اور انہیں نیا رنگ دے کر جولائی 2023 میں سینٹ پیٹرزبرگ میں روس۔افریقہ کانفرنس کے موقع پر نمایاں طور سے پیش کیا۔

پہلا مغالطہ: “روس اپنی خوراک اور کھادوں پر پابندیوں سے متاثرہ ہے۔”

ماسکو نے متواتر ایک جھوٹا بیانیہ پھیلایا ہے کہ روس پر عائد کردہ پابندیوں نے اس کی خوراک اور کھادوں کی برآمدات کو روک دیا ہے اور اس میں ‘بی ایس جی آئی’ کے تحت کی جانے والی برآمدات بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ یہ پابندیاں یوکرین کے خلاف اس کی شروع کردہ غیرقانونی جنگ کی پاداش میں عائد کی گئی ہیں۔ روس کے حکام اور ریاستی مالی سرپرستی میں چلنے والا میڈیا باقاعدگی سے یہ جھوٹے دعوے کرتا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کی روس پر پابندیوں نے روس کے اناج اور کھادوں کی نقل و حمل کے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔ جولائی 2023 میں روس۔افریقہ کانفرنس سے قبل پیوٹن نے دوبارہ الزام عائد کیا کہ روس کے اناج اور کھادوں پر پابندیوں کے حوالے سے دیے گئے کسی استثنٰی پر عمل نہیں ہوا جبکہ انہوں نے ان غیرموجود رکاوٹوں کے دعوے کے ساتھ یہ شیخی بھی بگھاری کہ روس نے 2023 کے پہلے نصف میں 2022 میں کی گئی تمام غذائی برآمدات کے برابر اناج دوسرے ممالک کو بھیجا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے روس کی خوراک اور کھادوں کی برآمدات پر پابندیاں عائد نہیں کیں۔ روس کی جانب سے اس حوالے سے کسی بھی طرح کے خدشات کو رفع کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے نجی شعبے اور امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ کے ساتھ رابطہ کیا۔ ان ممالک نے اپنی پابندیوں  میں روس کی خوراک اور کھادوں کی برآمدات کو استثنیٰ دینے کے حوالے وضاحت کے لیے جامع رہنمائی جاری کی۔

درحقیقت روس نے اپنی برآمدات کو خود محدود رکھا ہے۔ یوکرین کے خلاف اس کے بڑے پیمانے پر حملے سے فوری بعد ابتدائی مہینوں میں اور ‘بی ایس جی آئی’ کے فعال ہونے سے پہلے روس نے اپنی برآمدات کو محدود کر دیا تھا تاکہ عالمی منڈیوں کی صورتحال کو اپنے حق میں موڑا اور یوکرین کی غذائی برآمدات کو روکا جا سکے اور اس طرح دنیا بھر میں بدحال لوگوں کی قیمت پر زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی کوشش کی گئی۔

یہ سب کچھ اعدادوشمار سے بھی ظاہر ہے۔ روس نے ‘بی ایس جی آئی’ کے تحت بھرپور برآمدات کیں۔ جب یہ معاہدہ فعال تھا تو اس نے 56 ملین ٹن اناج برآمد کیا اور اس سے 41 بلین ڈالر کمائے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین اور روس دونوں کے اناج کو عالمی منڈیوں میں لانے اور یوکرین کے خلاف روس کی بلااشتعال جنگ کے خوراک کی عالمگیر ترسیل اور قیمتوں پر اثرات کو محدود رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں میں بھرپور تعاون کیا۔ نتیجتاً، اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، 2022 میں کھادوں کی برآمد سے روس کو حاصل ہونے والی آمدنی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ روس گندم کی ریکارڈ مقدار میں فروخت سے بھی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ماہرین معاشیات اور روس کے اناج برآمد کرنے والے تجارتی گروپ کے مطابق دسمبر 2022 میں اس کی گندم کی برآمدات اب تک کی تقریباً ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی تھیں۔ روس نے 45.5 ملین ٹن گندم برآمد کی جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ تھی۔

روس نے زرعی پیداوار کی برآمدات سے بہت بڑا منافع کمایا جو بڑی حد تک پیوٹن کی جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ تھا۔ جولائی 2023 میں ‘بی ایس جی آئی’ سے روس کی دستبرداری کے بعد عالمی سطح پر اناج کی قیمتوں میں 17 فیصد اضافہ ہو گیا جو دنیا کے انتہائی بدحال لوگوں کے لیے سزا کے مترادف ہے۔ ‘بی ایس جی آئی’ سے روس کی دستبرداری کے بعد ماسکو نے اس اقدام کے حوالے سے بداعتمادی پھیلانے کے لیے گمراہ کن مہم شروع کی جبکہ کریملن کے اعلیٰ حکام اور ریاستی مالی سرپرستی میں ہونے والے پروپیگنڈے کے ذریعے کھلم کھلا حکومت کوبھوک سے ہتھیار کا کام لینے کے لیے کہا گیا۔

دوسرا مغالطہ: “کم آمدنی والے ممالک کو اناج کی برآمد کے اقدام سے فائدہ نہیں ہوا۔”

‘بی ایس جی آئی’ سے روس کی دستبرداری سے قبل اور اس کے بعد چند ہفتوں سے کریملن نے معلومات کو توڑا موڑا اور یہ غلط بیانیہ پھیلایا کہ ‘بی ایس جی آئی’ سے ان ممالک کو فائدہ نہیں ہوا جنہیں اناج اور خوراک کی اشد ضرورت ہے۔ مئی 2023 میں روس کی وزارت خارجہ نے ایسی غلط اطلاعات کا پھیلاؤ جاری رکھا جس کا مقصد ‘بی ایس جی آئی’ کے حوالے سے بداعتمادی پھیلانا تھا حالانکہ روس نے اُس وقت اس معاہدے کو مزید وسعت دینے کی تصدیق کی تھی۔

روس کی وزارت خارجہ نے ‘بی ایس جی آئی’ کے انسانی جزو پر سوال اٹھایا اور استدلال کیا کہ کم ترقی یافتہ ممالک کو اس اقدام سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ مبینہ طور پر انہیں اناج کی برآمد میں سے 2.5 فیصد حصہ ہی ملتا ہے۔ 17 جولائی 2023 کو روس کے ریاستی میڈیا نے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوو کی جانب سے ‘بی ایس جی آئی’ میں روس کی شمولیت کے خاتمے کا اعلان کیا جن کا دعویٰ تھا کہ اس اقدام سے غریب ترین ممالک کو سب سے کم فائدہ پہنچا۔  روس۔افریقہ کانفرنس سے قبل روس کے ریاستی میڈیا نے صدر پیوٹن کے 24 جولائی کے ایک مضمون کی تشہیر کی جس میں ‘بی ایس جی آئی’ کے تحت اناج کی دنیا کے مختلف حصوں میں تقسیم کے بارے میں گمراہ کن باتیں کہی گئی تھیں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر غلط الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ اس اقدام کو امریکہ اور یورپی یونین کے بڑے کاروباروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک کو اناج میں ان کی ضرورت سے بہت کم حصہ دیا جا رہا ہے۔ 27 جولائی کو روس۔افریقہ کانفرنس کے پہلے روز اپنے خطاب میں صدر پیوٹن نے ‘بی ایس جی آئی’ کے بارے میں عام دستیاب معلومات کو مزید توڑا موڑا اور دعویٰ کیا کہ اس اقدام کے تحت برآمد کی جانے والی 70 فیصد سے زیادہ غذائی پیداوار ایسے ممالک کو بھیجی جا رہی ہے جن کی آمدنی اوسط درجے سے زیادہ ہے جبکہ ایتھوپیا، سوڈان اور صومالیہ جیسے کم آمدنی والے ممالک کو اس اناج اور خوراک کے مجموعی حجم میں سے 3 فیصد سے بھی کم مل رہا ہے۔

روس کے دعووں سے برعکس ‘بی ایس جی آئی’ نے کم آمدنی والے ممالک کو انتہائی ضروری طور پر درکار یوکرین کے اناج کی براہ راست فراہمی اور عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں کمی لا کر ضرورت مند لوگوں کو مدد دی۔ اس اقدام کے تحت بھیجی جانے والی ہر کھیپ نے اناج کو منڈی میں لا کر اور تمام لوگوں کے لیے اسے سستا کرکے مشکلات کم کیں۔ اناج کی قیمتوں میں کمی کی بدولت اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کو بڑی مقدار میں اناج خریدنے میں مدد ملی اور اس کا تمام تر فائدہ کم آمدنی والے ممالک کو ہوا۔ بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمد کے اقدام سے متعلق مشترکہ رابطہ مرکز کے مطابق اس اقدام کے تحت 1,000 سے زیادہ بحڑی جہاز تقریباً 33 ملین ٹن اناج اور خوراک لے کر 45 ممالک کو گئے اور اس میں سے 57 فیصد سامان افریقہ اور ایشیا میں کم یا متوسط آمدنی والے ممالک میں پہنچا اور یوکرین کی 65 فیصد گندم ترقی پذیر ممالک کو دی گئی جس میں 19 فیصد حصہ غریب ترین اور کم ترین ترقی یافتہ ممالک کا تھا۔  یوکرین میں پیدا ہونے والے اناج کی بڑی مقدار ترکیہ میں گئی جو اسے وصول کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک تھا۔ وہاں اس سے آٹا بنایا گیا اور پھر اسے افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو بھیجا گیا۔

پیوٹن کی جانب سے اپنے مقاصد کے لیے حساب کتاب کو بگاڑے جانے میں یہ حقیقت نظرانداز کی گئی ہے کہ یوکرین نے ‘بی ایس جی آئی’ کے تحت جولائی 2023 تک ڈبلیو ایف پی کو اپنی 80 فیصد سے زیادہ گندم فراہم کی تھی اور یوکرین پر روس کے بڑے پیمانے پر حملے سے پہلے 2021 سے وہ اپنی 50 فیصد گندم ادارے کو دے رہا تھا۔ اس اقدام کی بدولت ڈبلیو ایف پی کے لیے اناج کے 29 جہازوں کا حصول ممکن ہوا جس میں یوکرین کی جانب سے انسانی غذائی امداد کے طور پر دی جانے والی 725,000 میٹرک ٹن گندم بھی شامل تھی جو افغانستان، جبوتی، ایتھوپیا، کینیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کو بھیجی گئی۔ یہ اقدام عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ روکنے اور دنیا بھر میں انتہائی ضرورت مند لوگوں کو خوراک پہنچانے کے اپنے مقاصد میں بھرپور طور سے کامیاب رہا

روس غلط طور سے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ‘بی ایس جی آئی’ نے ترقی پذیر ممالک کو فائدہ نہیں پہنچایا جبکہ خود روس نے انتہائی ضرورت مند ممالک کی مدد کے لیے بہت کم کام کیا ہے۔ پیوٹن نے جولائی 2023 میں روس۔افریقہ کانفرنس میں یہ بھی نہیں بتایا کہ روس نے تاحال ڈبلیو ایف پی کو مفت اناج مہیا کرنے کی کوئی پیشکش نہیں کی اور یہ بڑی حد تک اپنا اناج بلند یا متوسط آمدنی والے ممالک کو برآمد کر رہا ہے۔ دوسری جانب ‘بی ایس جی آئی’ کی بدولت عالمی سطح پر اناج کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد ملی اور 18 بلین روٹیوں کے برابر گندم برآمد کی گئی جس میں سے 11.5 بلین روٹیوں کے برابر اناج ترقی پذیر ممالک میں پہنچا۔

تیسرا مغالطہ: “روس گندم کی عالمی منڈی میں یوکرین کے حصے کا متبادل مہیا کر سکتا ہے۔”

صدر پیوٹن نے روس۔افریقہ کانفرنس میں ایک نئے جھوٹے بیانے کے ذریعے غلط حساب کتاب پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ روس کی مبینہ ریکارڈ زرعی پیداوار کے بارے میں شیخی بگھارتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس اپنی برآمدات اور امداد کے ذریعے یوکرین کے اناج کا متبادل پیش کر سکتا ہے کیونکہ گندم کی عالمی منڈی میں روس کا حصہ 20 فیصد ہے جبکہ یوکرین کا حصہ پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔  اس دعوے کے حق میں پیوٹن نے یہ کہا کہ 2022 میں یوکرین نے 47 ملین ٹن اناج برآمد کیا تھا جبکہ اس کی پیداوار 55 ملین ٹن تھی اور اس میں 17 ملین ٹن گندم تھی۔ دوسری جانب روس نے اپنی 156 ملین ٹن زرعی پیداوار میں سے 60 ملین ٹن برآمد کی جس میں 48 ملین ٹن گندم تھی۔ امریکہ کے محکمہ زراعت کے مطابق روس کی برآمدات کا حقیقی حجم وہ نہیں جو پیوٹن نے بتایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نے 137 ملین ٹن پیداوار میں سے 56 ملین ٹن اناج برآمد کیا جس میں گندم کی برآمدات کا حجم 45.5 ملین ٹن تھا۔  یوکرین کا اپنی زرعی زمینوں میں بارودی سرنگوں کی موجودگی اور اپنے کسانوں پر بمباری کے باوجود 55 ملین ٹن اناج پیدا کرنا اور اس کا 85 فیصد برآمد کرنا اس کے کسانوں اور زرعی کارکنوں کی غیرمعمولی مضبوطی کا اظہار ہے۔  پیوٹن نے جو بات نہیں بتائی وہ یہ ہے کہ روس کو ملکی استعمال کے لیے کتنی گندم درکار ہوتی ہے اور انہوں ںے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ روس نے اپنے اناج کا صرف 38 فیصد ہی کیوں برآمد کیا اور 2023 میں ریکارڈ فصل ہونے کے باوجود وہ دنیا بھر میں بدحال لوگوں کو غذا مہیا کرنے والے عالمی پروگرام برائے خوراک کو مدد دینے والے ممالک میں 34ویں درجے پر کیوں ہے۔ ان سوالات کے جواب کے بغیر روس کا یہ دعویٰ قابل اعتبار نہیں کہ وہ خاص طور پر انتہائی ضرورت مند ممالک کے لیے یوکرین کی گندم کی برآمدات کا متبادل پیش کر سکتا ہے۔

پیوٹن کے گمراہ کن حساب کتاب کا مقصد دنیا کو اناج اور خوراک مہیا کرنے میں یوکرین کے بہت بڑے کردار کو جھٹلانا اور اس کا خاتمہ کرنا ہے۔ روس کے بڑے پیمانے پر حملے سے پہلے یوکرین کا شمار دنیا کے سب سے بڑے زرعی برآمد کنندہ ممالک میں ہوتا تھا۔ یہ سورج مکھی کے تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ تھا اور اس تیل کی عالمی منڈی میں اس کا حصہ 50 فیصد تھا۔ یوکرین جو برآمد کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک، مکئی کی برآمد کے اعتبار سے چوتھا اور گندم برآمد کرنے والا دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک تھا جس کی عالمگیر ترسیل میں اس کا حصہ 8 فیصد تھا۔ 2021 میں یوکرین نے 12 بلین ڈالر مالیت کا اناج برآمد کیا اور اس کی 92 فیصد زرعی پیداوار افریقہ اور ایشیا کے ممالک میں گئی۔ اقوام متحدہ کے ادارہء خوراک و زراعت کے مطبق روس کی شروع کردہ جنگ میں یوکرین کی 12 فیصد زرعی زمینیں بارودی سرنگوں سے آلودہ ہو چکی ہیں۔ جنوبی یوکرین میں گندم پیدا کرنے والے کیرسون جیسے بڑے علاقے بھی روس کی جنگ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ خاص طور پر 6 جون 2023 کو نووا کاخوفکا ڈیم ٹوٹنے سے آنے والے سیلاب نے ان علاقوں کو تباہ کر دیا ہے۔ 2021 میں یوکرین کے کسانوں نے 16 ملین ہیکٹر سے زیادہ اراضی پر فصلیں کاشت کی تھیں۔ 2022 میں اناج کی کاشت کے رقبے میں 11.6 ملین ہیکٹر کمی آئی جو قابل کاشت رقبے کا 28.5 فیصد اور بیلجیئم کے مجموعی رقبے کے برابر ہے۔ 2023 میں اس رقبے میں مزید 10.2 ملین ہیکٹر تک کمی آنے کا خدشہ ہے۔

کریملن اپنی شروع کردہ جنگ جاری رکھنے، بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمد کے اقدام کو معطل کرنے، یوکرین کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور اس کی زرعی زمینوں میں بارودی سرنگیں بچھانے جیسے اقدامات سے خوراک کی عالمی منڈی میں یوکرین کا حصہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اپنے قریب ترین تجارتی حریف کا خاتمہ کر کے وہ خود کو اس کے بنیادی متبادل کے طور پر پیش کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

چوتھا مغالطہ: روس دنیا کے انتہائی ضرورت مند ممالک کو خوراک کی فراہمی میں بلند نظر مددگار اور ضامن ہے۔”

پیوٹن نے جولائی 2023 میں روس۔افریقہ کانفرنس کے موقع پرفریقین میں تعاون سے متعلق اپنا تصور پیش کرتے ہوئے روس کو دنیا کے انتہائی ضرورت مند ممالک کے لیے خوراک کی فراہمی کے معاملے میں بلند نظر مددگار اور ضامن کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے آئندہ تین سے چار ماہ میں برکینا فاسو، زمبابوے، مالی، صومالیہ، وسطی جمہوریہ افریقہ اور اریٹریا کو 25 سے 50 ہزار ٹن اناج مفت دینے کا وعدہ کیا۔

دنیا میں غذائی عدم تحفظ میں کمی لانے کی ہر کوشش کا خیرمقدم ہونا چاہیے تاہم آئیے پیوٹن کی بلند نظری کو سیاق و سباق میں دیکھتے ہیں۔ 25 ہزار ٹن روس کی 2022 میں 137 ملین ٹن مجموعی زرعی پیداوار کا 0.03 فیصد ہے۔ اگر روس اپنے وعدے کے مطابق ان میں سے ہر ملک کو 50 ہزار ٹن یا مجموعی طور پر ان چھ ممالک کو 300 ہزار ٹن اناج فراہم کرتا ہے تو یہ روس کی مجموعی پیداوار کا 0.2 فیصد بنتا ہے۔ 300 ہزار ٹن ‘بی ایس جی آئی’ کے تحت برآمد کردہ اناج کی مجموعی مقدار کے ایک فیصد سے بھی کم اور اس اقدام کے ذریعے یوکرین کی جانب سے ڈبلیو ایف پی کو فراہم کردہ 725 ہزار ٹن اناج کے نصف سے بھی کم ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے غذائی عدم تحفظ سے نمٹںے اور انسانی امداد کی مد میں جون 2022 سے 14.5 بلین ڈالر مہیا کیے ہیں۔ امریکہ براعظم افریقہ میں شدید اور درمیانے سے طویل مدتی غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کی کوششوں میں حصہ ڈالنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ 3 اگست 2023 کو امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے ہیٹی اور افریقہ کے ان 11 ممالک کے لیے مزید 362 ملین ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا جو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں جس میں روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جنگ اور اس کے ‘بی ایس جی آئی’ سے نکلنے کے نتیجے میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ مالی مدد اسی برس فراہم کی جائے گی۔  جولائی 2022 میں امریکہ نے صومالیہ کو قحط سے بچنے کے لیے 476 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد مہیا کی تھی۔ امریکہ اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک کے لیے بھی دنیا کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ ہے اور 2022 میں ادارے کے بجٹ کے لیے درکار 50 فیصد مالی وسائل اسی نے مہیا کیے تھے۔ عالمگیر غذائی عدم تحفظ کے حوالے سے روس کی فکر کا اندازہ لگانے کے لیے یہ دیکھنا ہی کافی ہے کہ خود اس نے ڈبلیو ایف پی کے لیے کتنے وسائل مہیا کیے ہیں۔ جولائی 2023 تک روس عالمی پروگرام برائے خوراک کو مالی وسائل مہیا کرنے والے ممالک میں 34ویں درجے پر اور امریکہ و یورپ کے بیشتر ممالک کے علاوہ ایشیا کے متعدد ممالک اور ہونڈوراس، جنوبی سوڈان، گنی اور گنی بساؤ جیسے ممالک سے بھی پیچھے تھا۔ 2022 میں ڈبلیو ایف پی کو انسانی امداد کی مد میں حاصل ہونے والے وسائل میں روس کا حصہ صرف 0.2 فیصد رہا جبکہ اس سال روس میں ریکارڈ مقدار میں زرعی پیداوار ہوئی اوراس نے اناج کی برآمد سے بھی بھرپور منافع کمایا تھا۔

جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتیرش نے پیوٹن کی ‘بلند نظر’ پیشکش پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ بعض ممالک کو دیے جانے والے مٹھی بھر عطیات ‘بی ایس جی آئی’ کے ذریعے برآمد کیے جانے والے لاکھوں ٹن اناج کا متبادل نہیں ہو سکتے جس سے دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد ملی۔

پانچواں مغالطہ: “بی ایس جی آئی کی حفاظتی راہداری کی آڑ میں یوکرین نے عسکری سرگرمیاں انجام دیں۔”

کریملن کے حکام اور پروپیگنڈہ کرنے والے عناصرنے یوکرین کی بندرگاہوں، اناج ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور اناج لے جانے والے تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کا جواز گھڑنے کے لیے یہ گمراہ کن اطلاعات پھیلائی ہیں کہ یہ شہری تنصیبات دراصل عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔ ‘بی ایس جی آئی’ سے نکل جانے کے بعد روس نے یوکرین کی غذائی برآمدات اور متعلقہ ڈھانچے پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ روس کے حکام اور کریملن کے پروپیگنڈے کے نظام نے 17 جولائی کو کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوو کے ‘بی ایس جی آئی’ سے متعلق پیغام کی تشہیر کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کیئو نے اس معاہدے کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ روس میں سٹیٹ ڈوما کے چیئرمین ویچیسلاؤ ولوڈن نے اسی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہ بات نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ کرائمیا کے پل پر دہشت گرد حملہ اناج کی حفاظتی راہداری کی آڑ میں کیا گیا۔ کریملن نواز ٹیلی گرام چینل ریڈووکا نے بھی شبہ ظاہر کیا کہ اس حملے میں استعمال ہونے والے سمندری ڈرون اناج کے معاہدے کے تحت اوڈیسا کی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے آخری بحری جہاز میں رکھے گئے ہوں گے جیسا کہ ترکیہ کا بحری جہاز سیمسن ہے۔ 20 جولائی کو روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ بحیرہ اسود میں یوکرین کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے تمام بحری جہازوں میں فوجی سامان ہو سکتا ہے۔ دریں اثنا، روس نے اوڈیسا اور اس سے پرے یوکرین کی بندرگاہوں اور دیگر شہری تنصیبات پر حملے جاری رکھے۔

روس کے ڈرون اور فضائی حملوں نے اناج کے ان بڑے ذخائر کو تباہ کر دیا جن سے لاکھوں لوگوں کو خوراک مہیا کی جا سکتی تھی۔ روس یوکرین کی بندرگاہوں اور اناج کے گوداموں پر میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ روس یوکرین کی بحیرہ اسود کی بندرگاہوں کو بند کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں سے یوکرین کا 95 فیصد اناج برآمد ہوتا ہے۔ 20 جولائی کو اوڈیسا کی بندرگاہ پر ایک گودام پر حملے میں 60,000 ٹن اناج تباہ ہوا۔ ڈبلیو ایف پی کے مطابق اس اناج سے 270,000 لوگوں کو ایک سال تک خوراک مہیا کی جا سکتی تھی۔ روس کا ریاستی میڈیا جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے کہ ان مراکز میں غیرملکی جنگی سازوسامان رکھا گیا تھا جبکہ ویڈیو ثبوت میں تباہ شدہ گوداموں میں اسلحے اور گولہ بارود کے بجائے اناج دکھائی دے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یوکرین سے گندم کی 70 فیصد برآمدات میں سہولت دینے والی کورنومورسک بندرگاہ پر 26 جولائی کو کیے جانے والے روس کے حملوں سے جس قدر نقصان ہوا اس کے ازالے کے لیے کم از کم ایک سال درکار ہو گا۔

روس نے اوڈیسا، میکولائیو اور کورنومورسک پر بمباری کے علاوہ دریائے ڈینیوب پر یوکرین کی بندرگاہوں، وہاں غیرفوجی بحری جہازوں، گوداموں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ یوکرین کے حکام کے مطابق 2 اگست 2023 کو دریائے ڈینیوب پر ازمیل کی بندرگاہ پر حملے میں 40,000 ٹن اناج تباہ ہوا جوافریقہ، چین اور اسرائیل کو بھیجا جانا تھا۔ یوکرین کی وزارت خارجہ نے اطلاع دی ہے کہ ماسکو نے ‘بی ایس جی آئی’ سے دستبردار ہونے کے بعد نو روز میں 26 بندرگاہوں، پانچ غیرفوجی بحری جہازوں، اور 180,000 ٹن اناج کو نشانہ بنایا۔ 3 گست 2023 تک روس نے یوکرین کی بندرگاہوں پر برآمد کے لیے ذخیرہ کیے گئے 220,000 ٹن اناج کو تباہ کیا جس کی بیشتر مقدار دنیا بھر کے غریب ترین ممالک کو بھیجی جانا تھی۔

جہاں کریملن عالمگیر غذائی بحران کو روکنے کے لیے ہر کوشش کرنے کو اپنا منشا قرار دیتا ہے وہیں وہ اس سے کہیں بڑی مقدار میں اناج کو تباہ کرنے کے درپے ہے جتنی وہ دنیا کے بدحال ترین لوگوں کومہیا کرنے کی بات کرتا ہے۔

کریملن کے پھیلائے مغالطے اور عالمگیر حقائق

کریملن نے ‘بی ایس جی آئی’ سے نکل جانے کے بعد خود کو پابندیوں سے متاثرہ اور عالمگیر غذائی تحفظ سے بچاؤ میں مدد دینے والا بلند نظرملک قرار دینے کے لیے اعدادوشمار کو توڑا موڑا، حقائق کو جھٹلایا اور حساب کتاب کو بگاڑ کر پیش کیا حالانکہ دنیا میں غذائی تحفظ کے موجودہ بحران میں شدت لانے کا ذمہ دار بھی وہ خود ہے۔ صدر پیوٹن اور کریملن کے حکام خوراک کی عالمگیر ترسیل میں یوکرین کے اناج کی اہمیت کو گھٹانے اور یوکرین کی اناج برآمد کرنے کی صلاحیت کو فعال طور سے ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں جس سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو خوراک مہیا کی جا سکتی ہے۔ درحقیقت روس واحد جارح ہے جو دنیا کے ضرورت مند ترین لوگوں کو اناج کی ضروری فراہمی کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے جسے روس کی دستبرداری سے قبل بحیرہ اسود کے راستے برآمدی اقدام اوراقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک کی مدد سے موثر انداز میں ممکن بنایا گیا۔

کریملن کی جانب سے معلومات کو توڑموڑ کر پیش کرنے اور گمراہ کن حساب کتاب سے حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ اس نے یوکرین پر بلااشتعال اور ناجائز طور سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔ کریملن یوکرین کی بندرگاہوں کو بند کر رہا ہے اور خوراک کی ترسیل کا کام کرنے والے غیرفوجی بحری جہازوں کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ کریملن کے میزائل حملوں میں یوکرین کے اناج کے گودام اور اس کی نقل و حمل کے مراکز تباہ ہو گئے ہیں۔ ‘بی ایس جی آئی’ سے ماسکو کی دستبرداری کے نتیجے میں روس کے اناج کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور دنیا کے بدحال ترین لوگوں کی قیمت پر کریملن کے جنگی خزانے بھرے گئے۔ روس خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور اپنی ریکارڈ پیداوار سے مانفع کمائے گا جبکہ وہ اپنے سب سے بڑے تجارتی حریف کو ختم کرنے کے ساتھ یہ کوشش کر رہا ہے کہ دنیا کو خوراک مہیا کرنے میں یوکرین کے اہم کردار کو بھلا دیا جائے۔

کریملن بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ پیوٹن یوکرین کے خلاف اپنے بلااشتعال اور بڑے پیمانے پر حملے اور اس کے اناج کی فراہمی اور اس کی نقل و حمل کے مراکز پرحملوں کے نتیجے میں شدت اختیار کر جانے والے اس مسئلے کو حل کرنے کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں۔ 1939 میں سٹالن نے یوکرین کے خلاف بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں لاکھوں یوکرینی ہلاک ہو گئے تھے۔ قریباً ایک صدی کے بعد کریملن کا ایک اور ظالم ساکن بھوک کو دنیا کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن نے 3 اگست 2023 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپیل کی تھی کہ “اس کونسل اور اقوام متحدہ کے ہر رکن کو چاہیے کہ وہ ماسکو کو بتائے کہ اب کافی ہو گیا، بحیرہ اسود کا دوسروں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال، دنیا کے بدحال ترین لوگوں کی آڑ میں مقاصد کا حصول اور اس بلاجواز اور ناواجب جنگ کو بند کیا جائے۔ روس نے ہی یہ جنگ شروع کی تھی جس سے خوراک کے عالمی بحران نے بدترین صورت اختیار کی اور روس ہی اسے بند کر سکتا ہے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/russias-war-on-ukraines-grain-and-global-food-supply-in-five-myths/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future